مہنگائی کا سایہ

بازار کے شور میں ایک خاموش چیخ گونج رہی ہے۔ سبزی فروش کے ترازو پر پڑی ہوئی پیاز کی سانس بھاری ہو گئی ہے، دالوں کے تھیلے کمر توڑ رہے ہیں، اور آٹے کی بوری گھر کی دہلیز پر پہنچتے پہنچتے اتنا بھاری ہو جاتی ہے کہ ماں کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔ یہ مہنگائی نہیں، ایک سست زہر ہے جو آہستہ آہستہ زندگی کے رگوں میں اتر رہا ہے۔ یہ زہر نہ صرف جسم کو کمزور کرتا ہے بلکہ روح کو بھی سکڑاتا ہے، خوابوں کو چھوٹا کرتا ہے اور مستقبل کو دھندلا دیتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے جب مہنگائی کی شرح سنگل ہندسے میں تھی تو لوگوں نے سانس لی۔ امید کے پر لگے کہ شاید اب رات ختم ہو گی، شاید اب بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ واپس آئے گی، شاید اب رات کا کھانا بغیر حساب کتاب کے پکایا جا سکے گا۔ مگر اگست 2026 نے وہ امید چکناچور کر دی۔ سالانہ بنیاد پر مہنگائی پھر گیارہ فیصد سے تجاوز کر گئی۔ خوراک مہنگی ہوئی، ٹرانسپورٹ نے آگ لگا دی، اور گھروں کی بجلی کے بلوں نے خوابوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔ دیہات میں یہ آگ زیادہ تیز ہے، جہاں ایک کسان اپنی پیداوار بیچ کر بھی اپنے بچوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں دے پا رہا۔ شہروں میں نوکری پیشہ طبقہ اپنی تنخواہ کے نوٹ گن گن کر سوچ رہا ہے کہ مہینے کے آخر تک کیسے گزارا ہو گا۔

مہنگائی صرف قیمتوں کا معاملہ نہیں۔ یہ اعتماد کا بحران ہے۔ جب روٹی کا ٹکڑا بھی ہاتھ سے پھسل جائے تو انسان کا یقین اپنی حکومت، اپنے نظام اور اپنے مستقبل پر متزلزل ہو جاتا ہے۔ ماں رات کو سوچتی ہے کہ اگلے مہینے اسکول کی فیس کہاں سے آئے گی۔ باپ بازار سے لوٹ کر خاموش بیٹھ جاتا ہے کیونکہ اس کی جیب میں بچا ہوا نوٹ اب کچھ خرید نہیں سکتا۔ بچے کھیلنے کے بجائے قیمتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ یہ کیسا بچپن ہے جو حساب کتاب میں گم ہو گیا؟ نوجوان اپنی شادی کے خواب ملتوی کر رہے ہیں، بوڑھے اپنی دوائیوں کے لیے پریشان ہیں، اور عورتیں گھریلو بجٹ کے دباؤ میں خاموشی سے اپنے حصے کا کھانا چھوڑ رہی ہیں۔

ادبی زبان میں کہیں تو مہنگائی ایک سایہ ہے جو سورج کے باوجود نہیں ہٹتا۔ یہ سایہ گلیوں میں، بازاروں میں، اور ہر کھڑکی کے پیچھے پھیلا ہوا ہے۔ صبح جب دکان کھلتی ہے تو یہ سایہ پہلے سے موجود ہوتا ہے، شام کو جب لوگ گھر لوٹتے ہیں تو یہ ان کے کندھوں پر سوار ہو کر چلتا ہے۔ یہ سایہ نہ صرف جسم کو کمزور کرتا ہے بلکہ روح کو بھی سکڑاتا ہے۔ جب ایک عام آدمی اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اس کے خواب چھوٹے ہو جاتے ہیں، اس کی ہنسی مدھم پڑ جاتی ہے، اور اس کے دل میں ایک خاموش غم بستا ہے۔ یہ غم اتنے گہرے رنگ کا ہے کہ کبھی کبھی انسان خود سے بھی چھپاتا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ شکایت کرنا بھی اب فضول ہے۔

کسان کے کھیتوں میں یہ سایہ الگ شکل اختیار کرتا ہے۔ بیج مہنگا، کھاد مہنگی، ڈیزل مہنگا، اور جب فصل تیار ہوتی ہے تو منڈی میں دام ایسے ملتے ہیں کہ محنت کا صلہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ کسان رات کو آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ بارش بھی اب مہنگی ہو گئی ہے، کیونکہ اس کے بغیر پیداوار نہیں ہوتی اور بارش کے ساتھ سیلاب کا خوف بھی ہے۔ دیہات کی عورتیں جو کبھی اپنے ہاتھوں سے مکھن نکالتی تھیں، اب دودھ خریدنے کے لیے پریشان ہیں۔ بچے جو کبھی درختوں سے پھل توڑ کر کھاتے تھے، اب ان پھلوں کی قیمت سن کر حیران رہ جاتے ہیں۔

شہروں میں مزدور کی کہانی اور بھی تلخ ہے۔ صبح سویرے نکلنا، رات گئے گھر لوٹنا، اور پھر بھی گھر کے اخراجات پورے نہ ہو پانا۔ رکشہ چلانے والا اپنے پیٹرول کے بل کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ کیا وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیج پائے گا یا نہیں۔ فیکٹری کا مزدور اپنی تنخواہ کے نوٹ گن کر حساب لگاتا ہے کہ مہینے کے بیسویں دن کے بعد کیا کھایا جائے گا۔ درمیانی طبقہ جو کبھی خود کو محفوظ سمجھتا تھا، اب قرضوں کے جال میں پھنس رہا ہے۔ گھر کی مرمت ملتوی، بچوں کی اضافی کلاسز بند، اور سفر کے منصوبے کاغذ پر رہ گئے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عالمی حالات، تیل کی قیمتیں، اور بیرونی تنازعات اس کا سبب ہیں۔ درست بات ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں تناؤ ہو تو اس کی لہر یہاں تک پہنچتی ہے۔ مگر ایک قوم صرف بیرونی ہواؤں پر نہیں چلتی۔ اندرونی کمزوریاں، پالیسیوں کی ناہمواری، ذخیرہ اندوزی، اور عوامی تکلیف کے تئیں بے حسی بھی اس آگ کو بھڑکاتی ہے۔ جب حکمران مہنگائی کے اعداد و شمار کو صرف ایک رپورٹ سمجھتے ہیں تو عوام اسے اپنی زندگی کی کہانی سمجھتے ہیں۔ جب میڈیا میں مہنگائی کی خبریں آتی ہیں تو لوگ ٹی وی بند کر دیتے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی اس حقیقت میں جی رہے ہیں۔

مہنگائی معاشرے کے رشتوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جہاں پہلے لوگ اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، اب ہر ایک اپنے حصے کا حساب رکھتا ہے۔ جہاں پہلے مہمان نوازی فخر کا باعث تھی، اب مہمان آنے سے پہلے سوچا جاتا ہے۔ جہاں پہلے خوشی کے مواقع پر کھلے دل سے خرچ کیا جاتا تھا، اب حساب کتاب غالب آ جاتا ہے۔ یہ تبدیلیاں چھوٹی لگتی ہیں مگر یہ معاشرے کی روح کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہی ہیں۔

ادب میں ہم نے ہمیشہ غربت اور تکلیف کو بیان کیا ہے۔ میر اور غالب نے درد کو الفاظ دیے، فیض نے احتجاج کی آواز بنائی، اور احمد ندیم قاسمی نے دیہات کی کہانیاں لکھی ہیں۔ آج کی مہنگائی ان سب کی زبانی بیان کی جا سکتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لفظوں میں بند نہیں ہوتا، یہ وہ احتجاج ہے جو خاموشی میں چھپا ہوتا ہے، اور یہ وہ کہانی ہے جو ہر گھر میں لکھی جا رہی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اس سایے کو صرف قبول نہ کیا جائے۔ معیشت کو صرف اعداد کی زبان میں نہیں، انسان کی زبان میں بھی سمجھا جائے۔ غریب کی روٹی، کسان کی پسینے کی کمائی، اور مزدور کے ہاتھوں کی تھکن یہ سب کچھ مہنگائی کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ اگر ہم نے اس آگ کو ٹھنڈا نہ کیا تو ایک دن یہ آگ پورے معاشرے کو کھا جائے گی۔ حل صرف پالیسیوں میں نہیں، ارادے میں بھی ہے۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی، ضروری اشیا کی فراہمی یقینی بنانا، کمزور طبقات کے لیے ہدفی امداد، اور طویل مدتی معاشی استحکام کے اقدامات ضروری ہیں۔ مگر سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ حکمران طبقہ عوام کی تکلیف کو محسوس کرے۔

مہنگائی صرف قیمت نہیں بڑھاتی۔ یہ امید کو بھی مہنگا کر دیتی ہے۔ اور جب امید مہنگی ہو جائے تو قوم کے لیے سب سے بڑی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ امید وہ روشنی ہے جو اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے۔ اگر یہ روشنی بجھ گئی تو لوگ اندھیرے میں بھٹکنے لگیں گے۔ آئیے اس قلت کو دور کریں۔ آئیے اس سایے کو ہٹانے کی کوشش کریں۔ ورنہ کل کے سورج میں بھی یہ سایہ ہمیں ڈھانپے رکھے گا، اور ہماری نسلیں ہمیں یاد کریں گی کہ ہم نے ان کے لیے کیسا مستقبل چھوڑا۔

بازار اب بھی شور کر رہا ہے۔ سبزی فروش اب بھی ترازو تول رہا ہے۔ ماں اب بھی آٹے کی بوری اٹھا رہی ہے۔ مگر ان سب کے دلوں میں ایک سوال گونج رہا ہے: کب تک؟ یہ سوال صرف ایک سوال نہیں، ایک چیخ ہے، ایک التجا ہے، اور ایک تنبیہ بھی۔ اس چیخ کو سننے والا اگر موجود ہے تو اب سن لے۔ ورنہ تاریخ خاموش نہیں رہے گی۔



  تازہ ترین   
پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
وزیراعظم کا ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس
سہیل چوہدری کو نیا آئی جی اسلام آباد تعینات کر دیا گیا
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی سعودی درخواست مسترد کر دی: امریکی میڈیا
سکیورٹی فورسز کا کرم میں کامیاب آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بے قابو، مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر