شین زین (شِنہوا) شِنہوا کے ابلاغی اثرات کے جائزہ نظام نے ہفتے کے روز چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر شین زین میں منعقدہ ایشیا بحرالکاہل میڈیا فورم کے موقع پر اپیک کے بیانیوں سے متعلق چینی اور انگریزی زبانوں میں ایک رپورٹ جاری کی ہے۔
ایشیا بحرالکاہل کی متاثر کن کہانیاں بانٹنا، چین کے تعمیری حل میں کردار ادا کرنا — ایشیا بحرالکاہل کمیونیکیشن انڈیکس کی بنیاد پر اپیک کے بیانیوں کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ شِنہوا کے ابلاغی اثرات کے جائزہ نظام کے کثیر لسانی ڈیٹا وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق و تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ میں 2023 سے 2026 کی پہلی ششماہی تک کا عرصہ تحقیق کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اس دوران ایشیا بحرالکاہل خطے کے ذرائع ابلاغ کے 200 سے زائد اہم اداروں کی جانب سے نشر کئے گئے 2 لاکھ سے زائد معلوماتی مواد کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں ابلاغ کی مقبولیت، ابلاغ کا دائرہ، ابلاغ کی وسعت اور ابلاغی رویے سمیت چار پہلوؤں پر مبنی ایک مقداری جائزہ نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے خطے میں اپیک کے تصور کے ابلاغی اثرات کا جائزہ لیا گیا، ایشیا بحرالکاہل کے ذرائع ابلاغ کے اداروں کے بیانیوں اور ابلاغی طریقوں کی نشاندہی کی گئی جبکہ نئی صورتحال میں عوامی رائے کے رجحانات اور ایشیا بحرالکاہل تعاون کے ارتقا کو بھی غیر جانبدارانہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اپیک سے متعلق موضوعات کے ابلاغ کا طریقہ کار بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے اور یہ بتدریج “سالانہ اجلاس پر مبنی ابلاغ” سے “مسلسل بنیادوں پر اقدار اور اصولوں پر مبنی بحث” کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ تبدیلی تمام معیشتوں کی ترقی کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتی ہے، علاقائی تعاون کے طویل مدتی اتفاق رائے کو مضبوط بناتی ہے اور ایشیا بحرالکاہل برادری کے تصور کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے میں مدد دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وسعت، جدت اور تعاون اپیک سے متعلق ابلاغ کے اہم موضوعات بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان میں “وسعت” پر تفصیلی بات سب سے زیادہ کی گئی،”جدت” سے متعلق موضوعات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا جبکہ”تعاون” کی رسائی سب سے زیادہ اور علاقائی اتفاق رائے کی بنیاد سب سے مضبوط رہی۔
یہ تینوں موضوعات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے علاقائی ترقی پر اتفاق رائے کو مسلسل مضبوط کر رہے ہیں اور ایشیا بحرالکاہل برادری کی تشکیل کے لئے سازگار بین الاقوامی عوامی رائے کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں خطے کے پیچیدہ ماحول کے پیش نظر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خطے کے ذرائع ابلاغ کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بڑھانا اور ابلاغی کوششوں کو مضبوط کرنا انتہائی اہم ہے۔
چین ایشیا بحرالکاہل کی معیشتوں کے ساتھ مکالمے اور تعاون کو مزید مضبوط بناتا رہے گا، باہمی اعتماد اور رابطے کے لئے پل تعمیر کرے گا اور ایشیا بحرالکاہل کے میڈیا اداروں کے ساتھ مل کر وسعت و شمولیت، جدت پر مبنی ترقی اور ایشیا بحرالکاہل کی باہمی مفاد پر مبنی تعاون کی کہانیاں دنیا تک پہنچائے گا تاکہ خطے کی پائیدار خوشحالی میں کردار ادا کیا جا سکے۔
شِنہوا نے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون سے متعلق بیانیوں پر رپورٹ جاری کردی



