اسلام آباد کا زیرِ زمین پانی اور ایک خاموش تباہی، جو ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے

تحریر: توصیف احمد عباسی

اسلام آباد، جسے کبھی پاکستان کا سب سے محفوظ، سرسبز اور پانی سے بھرپور شہر سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسے بحران کی زد میں ہے جسے عالمی ماہرین
“Silent Groundwater Collapse”
قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک خاموش بحران ہے، جو زمین کے اندر سے زندگی کی بنیادیں کھوکھلی کرتا جا رہا ہے۔

Pakistan Council of Research in Water Resources (PCRWR) کی 2016، 2020 اور 2023 کی رپورٹس اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی کی سطح گزشتہ تین دہائیوں میں 15 سے 30 فٹ کی گہرائی سے کھسک کر 300 سے 500 فٹ تک جا پہنچی ہے۔ شہر کے کئی حصوں، خصوصاً بعض جی سیکٹرز، بنی گالہ اور چک شہزاد میں زیرِ زمین پانی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ محض ایک سائنسی انتباہ نہیں بلکہ ایک ایسا بحران ہے جو مستقبل کی نسلوں کے لیے پانی کی دستیابی کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔

PCRWR کے 2021 کے مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی سالانہ 2 سے 4 فٹ کی رفتار سے نیچے جا رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ رفتار 6 فٹ سالانہ تک ریکارڈ کی گئی۔ WWF-Pakistan کی 2022 کی
“Urban Water Risk Assessment”
نے اسلام آباد کو اُن شہروں میں شامل کیا ہے جہاں شہری پھیلاؤ نے قدرتی ریچارج زونز کو 50 فیصد تک ختم کر دیا ہے۔

بارش کا تقریباً 60 فیصد پانی کنکریٹ کی سڑکوں سے بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے، اور زمین کے اندر موجود آبی ذخائر دوبارہ بھر ہی نہیں پاتے۔ یہ وہی شہر ہے جسے کبھی مارگلہ کی پہاڑیوں سے اترنے والے چشمے سیراب کرتے تھے، مگر آج وہ چشمے بھی موسمیاتی تبدیلی اور بے قابو تعمیرات کے باعث سکڑ چکے ہیں۔

PCRWR کے مطابق اسلام آباد میں پانی کے بحران کی سب سے بڑی وجہ بے لگام بورنگ اور غیر منظم شہری پھیلاؤ ہے۔ اس وقت 35 ہزار سے زائد نجی ٹیوب ویل چل رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد غیر رجسٹرڈ ہیں۔ یہ وہ پانی نکال رہے ہیں جو زمین نے ہزاروں برس میں ذخیرہ کیا تھا۔

Asian Development Bank نے 2020 کی اپنی
“Pakistan Water Security Assessment”
میں واضح کیا کہ اسلام آباد میں پانی نکالنے کی رفتار، پانی بھرنے کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ یہی صورتحال دہلی، تہران اور میکسیکو سٹی جیسے شہروں کو شدید پانی بحران تک لے گئی، اور اسلام آباد بھی اسی راستے پر چل رہا ہے، بلکہ رفتار کہیں زیادہ تیز ہے۔

مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد میں روزانہ تقریباً 70 ملین گیلن گندا پانی پیدا ہوتا ہے، مگر اس میں سے صرف 9 سے 10 ملین گیلن پانی ہی ٹریٹمنٹ سے گزرتا ہے۔ UN-Water کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد گندے پانی کو بغیر ٹریٹمنٹ کے چھوڑ دیا جاتا ہے، اور اسلام آباد اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر شہروں میں شامل ہے۔

اگر یہی پانی جدید
(STP) “Sewage Treatment Plants”
کے ذریعے صاف کر کے دوبارہ استعمال کیا جائے تو زیرِ زمین پانی پر دباؤ 40 فیصد تک کم ہو سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے شہر میں اس سمت میں کوئی سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آتی۔

2023 میں National University of Sciences and Technology (NUST) کے محققین نے
“Geospatial Analysis of Groundwater Depletion in Islamabad”
کے عنوان سے ایک تحقیق شائع کی، جس میں شہر کے بعض علاقوں میں
“Land Subsidence”
یعنی زمین کے بیٹھنے کے ابتدائی آثار ریکارڈ کیے گئے۔ یہی عمل جکارتہ اور میکسیکو سٹی کو تباہی کے دہانے تک پہنچا چکا ہے۔ اگر اسلام آباد میں یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں عمارتوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک شہر کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک قومی غفلت کا نتیجہ ہے۔ اسلام آباد کو بچانے کے لیے سب سے پہلے ایک سخت، غیر جذباتی اور سائنسی بنیادوں پر
“National Water Emergency”
نافذ کرنا ہوگی۔

ہر قسم کی نئی بورنگ پر پابندی، موجودہ ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن، پانی نکالنے کی مقدار کی حد، صنعتی و کمرشل استعمال کے لیے لازمی ری سائیکلنگ، ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے STP اور ریچارج ویلز کی قانونی پابندی — یہ وہ اقدامات ہیں جن کے بغیر اسلام آباد کا مستقبل محفوظ نہیں ہو سکتا۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے شہروں کو بچانے کے لیے یہی راستہ اختیار کیا، مگر پاکستان میں زیرِ زمین پانی کو اب تک ایک “مفت اور لامحدود” وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچ اگر نہ بدلی تو اسلام آباد وہ شہر بن جائے گا جس کے نیچے پانی نہیں، صرف خالی اور مردہ زمین رہ جائے گی۔

اسلام آباد کا بحران ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ اگر ہم نے آج فیصلہ نہ کیا تو کل ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے پانی ہی نہیں بچے گا۔ یہ مسئلہ کسی ایک حکومت یا ایک دور کا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔

پانی کے بغیر نہ شہر چلتے ہیں، نہ صنعتیں، نہ زراعت، نہ زندگی۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم اس بحران کو جذبات نہیں بلکہ سائنس کی آنکھ سے دیکھیں، اور وہ اقدامات کریں جو دنیا نے اپنے شہروں کو بچانے کے لیے کیے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔



  تازہ ترین   
پاکستان کا امن مشن ناکام نہیں ہوا، بھارت ہمارے ساتھ اپنے تعلق کا فیصلہ کر لے: عراقچی
صدر شی ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر متفق ہیں: ٹرمپ
ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین
سینیٹ نے مفت اور لازمی تعلیم کے ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد، گیس، بجلی کے نرخ میں تبدیلی شامل
سعودیہ کی مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز
چین آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کا مخالف، ہمارا مؤقف بھی یہی ہے: مارکو روبیو
ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، دفاع کیلئے لڑنے کو تیار ہیں: عباس عراقچی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر