چین کا وقار، ٹرمپ کا اعتراف اور بدلتی ہوئی عالمی طاقت

تاثرات: مظہر طفیل

دنیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک مگر تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کئی دہائیوں تک عالمی فیصلوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے والا امریکہ اب پہلی مرتبہ ایک ایسی قوت کے سامنے محتاط اور نرم لہجے میں دکھائی دے رہا ہے جو نہ صرف معاشی اعتبار سے مستحکم ہو چکی ہے بلکہ سفارتی میدان میں بھی اپنی بصیرت اور تدبر سے دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ دورۂ چین اسی بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کا ایک واضح اظہار بن کر سامنے آیا۔یہ وہی ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو ماضی میں چین کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے، اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دیتے رہے، تجارتی جنگ چھیڑنے کی بات کرتے رہے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ امریکہ اب بھی واحد عالمی طاقت ہے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ طاقت صرف دھمکیوں، پابندیوں اور فوجی برتری کا نام نہیں بلکہ اصل طاقت معاشی استحکام، صنعتی ترقی، سفارتی حکمت اور قومی وقار میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور چین نے انہی میدانوں میں اپنی برتری منوا دی۔ امریکی صدر کا یہ دورہ ایک معمول کا سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ یہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ چین کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ساتھ امریکہ کے بڑے سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کا وفد بھی لے کر گئے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو اب اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ عالمی تجارت میں چین کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ امریکہ جان چکا ہے کہ چین کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی خود امریکی معیشت، صنعت اور تجارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اس پورے دورے کے دوران جس تدبر، بردباری اور اعلیٰ سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن گیا۔ انہوں نے نہ صرف امریکی صدر کا پرتپاک استقبال کیا بلکہ ہر مرحلے پر وقار، احترام اور توازن کو مقدم رکھا۔ یہ وہ انداز تھا جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مضبوط قومیں اشتعال، دھونس اور تضحیک کے بجائے اعتماد، صبر اور حکمت سے اپنی بات منواتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی انداز ہمیشہ سخت، جارحانہ اور بعض اوقات تحقیر آمیز رہا ہے۔ کئی چھوٹے اور کمزور ممالک کے سربراہان کے ساتھ ان کا رویہ سفارتی آداب سے ہٹ کر دیکھا گیا۔ مگر چین میں صورتحال یکسر مختلف رہی۔ چینی قیادت نے کہیں بھی جذباتی یا اشتعال انگیز ردِعمل نہیں دیا بلکہ مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے قومی وقار کو برقرار رکھا۔ یہی ایک بڑی طاقت کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ شی جن پنگ نے اس دورے کے دوران یہ ثابت کیا کہ چین صرف ایک معاشی قوت ہی نہیں بلکہ ایک بالغ اور ذمہ دار عالمی کردار بھی بن چکا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں چین کی خودمختاری، قومی وقار اور معاشی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اختلافات کے باوجود احترام اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔آج دنیا کے کئی ممالک چین کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چین نے اپنی ترقی کا سفر کسی ملک کو دھمکیاں دے کر نہیں بلکہ صنعت، محنت، تحقیق، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے طے کیا۔ چین نے دنیا کو یہ دکھایا کہ اگر کوئی قوم اپنی قومی عزت، خودداری اور اقتصادی استحکام کو اولین ترجیح دے تو وہ بڑی طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی بات منوا سکتی ہے۔ امریکہ ایک طویل عرصے تک دنیا کے مختلف ممالک پر مالیاتی اور سفارتی دباؤ ڈال کر اپنی پالیسیاں نافذ کرتا رہا، مگر اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ چین نے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر اپنے کردار سے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب دنیا یک قطبی نہیں رہی۔ عالمی سیاست میں نئے مراکز ابھر رہے ہیں اور چین ان میں سب سے نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورے نے دراصل امریکہ کی اس مجبوری کو بھی نمایاں کیا کہ چین کے بغیر عالمی اقتصادی نظام کا تصور اب ممکن نہیں رہا۔ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر اس نے چین کے ساتھ محاذ آرائی کو مزید بڑھایا تو اس کے اثرات براہِ راست امریکی صنعت، روزگار اور معیشت پر پڑیں گے۔ دوسری طرف چین ان عالمی منڈیوں میں مزید جگہ بنا لے گا جہاں امریکہ کا اثر کمزور پڑتا جا رہا ہے۔اس دورے کے دوران دفاعی معاملات، تجارتی تعلقات اور دوطرفہ مفادات پر بھی گفتگو ہوئی، مگر سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ دنیا نے پہلی مرتبہ امریکہ کو نسبتاً محتاط انداز میں چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے دیکھا۔ یہ منظر عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ چین نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کیا کہ اصل کامیابی طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ وقار کے ساتھ مذاکرات کرنے میں ہے۔ شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط کیا بلکہ دنیا میں ایک باوقار، متوازن اور بااعتماد ریاست کے طور پر اپنی شناخت بھی قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے کئی ممالک چین کے ماڈل کو توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔حالیہ دورۂ چین نے یہ واضح کر دیا کہ مستقبل کی دنیا صرف دھونس، جنگوں اور پابندیوں سے نہیں چلے گی بلکہ اقتصادی طاقت، صنعتی ترقی اور سفارتی دانش ہی اصل فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔ چین نے ثابت کیا کہ اگر قیادت سمجھدار، باوقار اور قومی مفادات سے مخلص ہو تو بڑی سے بڑی عالمی طاقت بھی مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔یہ دورہ دراصل چین کی سفارتی فتح اور بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کا اعلان تھا۔



  تازہ ترین   
پاکستان کا امن مشن ناکام نہیں ہوا، بھارت ہمارے ساتھ اپنے تعلق کا فیصلہ کر لے: عراقچی
صدر شی ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر متفق ہیں: ٹرمپ
ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین
سینیٹ نے مفت اور لازمی تعلیم کے ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد، گیس، بجلی کے نرخ میں تبدیلی شامل
سعودیہ کی مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز
چین آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کا مخالف، ہمارا مؤقف بھی یہی ہے: مارکو روبیو
ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، دفاع کیلئے لڑنے کو تیار ہیں: عباس عراقچی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر