ہائیکو (شِنہوا) چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے شہر چھیونگ ہائی کے علاقے بنچون شان میں لیچی کے باغات پکے ہوئے سرخ پھلوں سے بھر چکے ہیں کیونکہ فصل کی کٹائی کا موسم شروع ہو گیا ہے۔54 سالہ کسان لی شی وو کے لئے فصل کا یہ مصروف موسم محنت کے ثمرات سمیٹنے کا وقت ہے۔لی شی وو نے کہا کہ ’’اس سال لیچی زیادہ بڑی اور بہتر رنگت کی حامل ہیں، اس لئے امید ہے کہ اچھی قیمت ملے گی۔لی شی وو لیچی کے ایک کاشتکار اور مقامی کسانوں کی ایک کوآپریٹو سوسائٹی کے سربراہ ہیں جو کسانوں کو مفت تکنیکی تربیت اور زرعی سامان، فروخت، ذخیرہ، پراسیسنگ اور نقل و حمل سمیت مکمل سہولیات فراہم کرتی ہے تاکہ لیچی کے کاشتکاروں کی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔بنچون شان ایک زرعی علاقہ ہے جو کالی مرچ، انناس اور لیچی جیسی گرم علاقوں کی فصلوں کے لئے مشہور ہے اور یہاں قدرتی حالات انتہائی موزوں ہیں۔ تاہم کئی برسوں تک محدود تکنیکی معلومات اور پرانے زرعی طریقوں کی وجہ سے لیچی کی مقامی صنعت کی پیداوار اور منافع محدود رہے۔2011 میں لی پڑوسی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر ڈونگ گوان میں ملازمت چھوڑ کر واپس اپنے آبائی گاؤں آئے تاکہ خاندانی باغ سنبھال سکیں۔ ابتدا میں انہیں بار بار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔بہتری کے عزم کے ساتھ انہوں نے حکومتی تربیتی پروگراموں میں شرکت کی، ماہرین سے مشورے لئے اور اپنے باغات میں نئی تکنیکوں کا تجربہ کیا۔ ان کی مسلسل محنت کے نتیجے میں پیداوار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی۔2023 میں لی نے اپنے تجربات دوسرے کاشتکاروں تک پہنچانے کے لئے ایک کوآپریٹو قائم کرنے میں مدد کی۔آج اس کوآپریٹو کے 100 سے زائد رکن خاندان تقریباً ایک ہزار مو (تقریباً 66.7 ہیکٹر) پر مشتمل لیچی کے باغات چلا رہے ہیں۔ اوسط پیداوار تقریباً 15 ٹن فی ہیکٹر ہے جبکہ فی ہیکٹر پیداوار کی مالیت 2 لاکھ 25 ہزار یوآن (32 ہزار 882 امریکی ڈالر) سے 3 لاکھ یوآن تک پہنچ چکی ہے۔مقامی حکام نے بھی بہتر اقسام متعارف کرانے، تکنیکی خدمات مضبوط بنانے اور بڑے پیمانے پر معیاری زرعی نظام کو فروغ دینے کے اقدامات تیز کر دیئے ہیں تاکہ جدید زرعی نظام تشکیل دیا جا سکے۔
چین کے جنوبی صوبے ہائی نان میں لیچی کی صنعت نے مضبوط بنیادیں قائم کر لیں



