بیجنگ (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ چین اور فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اور بڑے خودمختار ممالک ہونے کے ناطے بین الاقوامی امن، استحکام اور ترقی کے تحفظ کی اہم ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔
وانگ یی نے بیجنگ میں فرانسیسی صدر کے سفارتی مشیرایمانوئل بوننے سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کی تزویراتی رہنمائی دوطرفہ تعلقات کی اعلیٰ سطح اور خصوصی نوعیت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین فرانس کے ساتھ مل کر چین-فرانس تعاون میں مزید پیش رفت اور دونوں عوام کے لئے زیادہ فوائد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ چین فرانسیسی پارلیمنٹ کی جانب سے نوآبادیاتی دور میں لوٹے گئے نوادرات کی واپسی کو آسان بنانے کے بل کی حالیہ منظوری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سلسلے میں فرانس کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے تاکہ عوامی اور ثقافتی تبادلوں اور تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔
وانگ یی نے کہا کہ آج کی دنیا میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے تناظر میں دونوں ممالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ تزویراتی رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنائیں عالمی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کریں اور چین-فرانس جامع تزویراتی شراکت داری کو مختلف اقسام کی مداخلت سے آزاد، مستحکم اور صحت مند ترقی کی جانب آگے بڑھائیں۔
ایمانوئل بوننے نے کہا کہ فرانس دونوں سربراہان مملکت کے درمیان دیرینہ دوستی اور باہمی اعتماد کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرانس تائیوان کے مسئلے کی اہمیت اور حساسیت کو مکمل طور پر سمجھتا ہے، ’’ایک چین‘‘ پالیسی پر قائم ہے اور اس معاملے پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرے گا۔
بوننے نے کہا کہ فرانس عالمی بحرانوں کے تعمیری حل تلاش کرنے کے لئے چین کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں یورپ اور چین کے درمیان مکالمہ اور تعاون برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔
دونوں فریقوں نے عالمی اقتصادی نظم و نسق اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
چین اور فرانس عالمی امن، استحکام اور ترقی کے تحفظ کی اہم ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، چینی وزیر خارجہ



