تحریر: عابد حسین قریشی
جاوید غامدی حالیہ دور میں ایک روشن خیال اور لبرل عالم دین اور دانشور کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ لیکن بعض اوقات بڑے مفکر اور دانشور بھی میڈیا کی چکا چوند میں اس طرح کی فکری لغزش کر گزرتے ہیں، کہ گمان ہوتا ہے، کہ وہ پٹری سے اتر گئے یا اکھڑ گئے۔
آجکل سوشل میڈیا پر غامدی صاحب کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہے، جس میں اس سوال کا جواب کہ کیا کسی احمدی امام کے پیچھے مسلمان مقتدیوں کی نماز ہو سکتی ہے۔ غامدی صاحب کمال معصومانہ انداز میں جواب دیتے ہیں، کہ بالکل ہو سکتی ہے، کہ امام بھی نماز ہی پڑھ رہا ہے اور مقتدی بھی وہی نماز۔ نہیں جناب نہیں، آپکا مذہبی اور فکری مقام اپنی جگہ، مگر یہاں آپ بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کر گئے۔
یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کروڑوں مسلمانوں کے ایمان کا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کی اساس ہے۔ اگر امام مسلمان ہی نہیں، دائرہ اسلام سے خارج ہے، اسکا نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان ہی نہیں، وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتا ہے، اور اس پر درود و سلام بھیجتا ہے، جس امام کا اپنا ایمان ہی مشکوک بلکہ مردود ہے، تو اسکے پیچھے کسی مسلمان کی نماز کیسے جائز ہوگی۔ اتنی بڑی فکری غلطی سے عقیدہ ختم نبوت پر براہ راست حملہ کیا گیا ہے۔
قادیانی فرقہ کیسے پیدا ہوا، اسکی مختصر تاریخ سمجھنا ضروری ہے۔ بر صغیر میں قادیانی فتنہ ہندو اور انگریز کی سرپرستی میں پیدا کیا گیا۔ یہ شاید سب سے مہلک وار تھا، جو دشمنان اسلام نے بڑی منصوبہ بندی سے کیا۔ صدیوں سے اس خطہ میں آباد مسلمان جو عقیدہ ختم نبوت پر ہمیشہ متفق اور فدا رہے، ان کے اندر سے ایک مناظرہ باز مرتد کو کھڑا کیا گیا، جو انگریز سرکار کا ملازم بھی تھا۔ جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہا۔
کبھی وہ مرزا قادیانی مسیح موعود بنا، تو کبھی امام مہدی، کبھی اس نے ظلی اور بروزی نبی ہونے کا دعوٰی کیا، اور کبھی پورا نبی بن بیٹھا۔ حیرت اس شعبدہ باز پر نہیں، حیرت اور افسوس اسکے ان بظاہر پڑھے لکھے پیروکاروں پر ہے، جو ختم نبوت جیسی ایک بڑی اور اٹل حقیقت سے منکر ہو کر ایک شعبدہ باز کے پیچھے چل پڑے اور دین اسلام کی وحدت اور ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا۔اور اپنی عاقبت کو بھی خراب کیا۔
قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے واضح طور پر حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ختم نبوت کی مہر قرار دیا اور یہ بھی فرمایا کہ آج میں نے یہ دین اور ہدایت آپ پر مکمل کر دی۔ اسکے بعد نہ کسی الہامی کتاب کی ضرورت رہی، نہ کسی ہدایت کی اور نہ کسی مسیحا کی۔
عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کی اساس ہے، اگر یہ کمزور پڑگیا، تو ہمارا ایمان ہی گیا۔ عقیدہ ختم نبوت پر بہت سے لوگ وقتاً فوقتاً وار کرتے رہتے ہیں، مگر غامدی صاحب آپ سے تو یہ امید نہ تھی۔ اللہ تعالٰی نے آپکو وافر علم و حکمت سے نوازا ہے۔ آپکے منہ سے اسطرح کی غیر ذمہ دارانہ بات بہت سے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنی ہے۔ امید ہے، آپ اس سے رجوع فرمائیں گے۔



