تاثرات: مظہر طفیل
امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک بار پھر غیر یقینی اور خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا، خلیج فارس کے حساس جغرافیے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں، سمندری راستوں پر خطرات، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں اور عالمی منڈیوں میں بے چینی نے ایک ایسے بحران کی بنیاد رکھ دی تھی جو کسی بھی لمحے ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا، اس کشیدہ ماحول میں جہاں عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف دکھائی دیں، وہیں چند علاقائی قوتیں ایسی بھی سامنے آئیں جنہوں نے دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے، ان میں پاکستان اور سعودی عرب کا کردار نمایاں ترین حیثیت اختیار کر گیا، اور بالخصوص جنرل سید عاصم منیر اور محمد بن سلمان کی قیادت نے ایک ممکنہ تباہ کن تصادم کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار ریاست بھی ہے، جس کی خارجہ اور دفاعی پالیسی ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ پر مرکوز رہی ہے، حالیہ بحران کے دوران جنرل سید عاصم منیر نے نہایت خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف علاقائی اور عالمی قوتوں کے ساتھ رابطے استوار کیے، انہوں نے نہ صرف عسکری سطح پر تیاری کو یقینی بنایا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کی موجودگی کو نمایاں رکھا، ان کی حکمت عملی کا بنیادی محور یہ تھا کہ کشیدگی کو کسی بھی صورت میں جنگ میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہایت توازن کے ساتھ ایک ایسا موقف اختیار کیا جو نہ صرف حقیقت پسندانہ تھا بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی قابلِ قبول رہا۔
جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کیا، ایک ایسا پل جو متحارب قوتوں کے درمیان رابطے، اعتماد سازی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرتا ہے، انہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے، اس ضمن میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی بھی قابلِ ذکر رہی، جس نے ایک مضبوط اور واضح پالیسی کو جنم دیا، یہ حکمت عملی نہ صرف فوری بحران کے حل میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ مستقبل میں بھی پاکستان کے لیے ایک مثبت سفارتی امیج قائم کرنے کا سبب بنی۔
دوسری جانب سعودی عرب، جو نہ صرف خلیجی خطے کی سب سے بڑی معیشت ہے بلکہ عالمِ اسلام میں ایک مرکزی حیثیت بھی رکھتا ہے، نے اس بحران میں ایک بالغ نظر اور متوازن کردار ادا کیا، محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی خارجہ پالیسی نے ایک نئی جہت اختیار کی، جس میں روایتی اتحادوں کو برقرار رکھتے ہوئے نئے سفارتی راستے بھی تلاش کیے گئے، انہوں نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو قائم رکھا تو دوسری جانب ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے، یہ توازن ہی دراصل سعودی پالیسی کی اصل کامیابی ہے جس نے خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ معاشی میدان میں بھی اہم اقدامات کیے، عالمی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جس سے نہ صرف عالمی معیشت کو سہارا ملا بلکہ خطے میں بے چینی کو بھی کم کرنے میں مدد ملی، اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے دیگر خلیجی ممالک کو بھی ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر آمادہ کیا، جس سے ایک مضبوط اور متحد موقف سامنے آیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اس پورے بحران میں ایک بار پھر اپنی تاریخی اہمیت کے ساتھ سامنے آئے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون نے نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا بلکہ خطے میں ایک مثبت پیغام بھی دیا، محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے پاکستان کو مالیاتی دباؤ سے نکالنے کے لیے جو اقدامات کیے، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض رسمی نہیں بلکہ حقیقی برادرانہ بنیادوں پر قائم ہیں، یہ تعاون مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری کی بنیاد فراہم کرے گا۔
حالیہ پیش رفت میں ایک نہایت اہم پہلو اسلام آباد میں ہونے والے سفارتی رابطے اور مذاکراتی ماحول کی تشکیل بھی ہے، جہاں پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا، ان پسِ پردہ کوششوں میں جنرل سید عاصم منیر کی حکمت عملی اور قیادت کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ سعودی قیادت، بالخصوص محمد بن سلمان، مسلسل پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ رابطے میں رہے اور اہم مشاورتی کردار ادا کرتے رہے، ان روابط کا مقصد یہی تھا کہ امریکہ اور ایران دونوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور ایک ایسے حل کی جانب بڑھا جائے جو خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکے، اسی تناظر میں عالمی سطح پر بھی یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر ایک ایسے سفارتی محور کی تشکیل کر رہے ہیں جو کشیدگی کے خاتمے میں عملی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسی سلسلے میں اعلیٰ سطحی دوروں اور سفارتی سرگرمیوں نے بھی اس عمل کو تقویت دی، ایران کے ساتھ روابط میں بہتری، خلیجی ممالک کے ساتھ مشاورت اور عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے، یہ سب اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنرل سید عاصم منیر اور محمد بن سلمان نہ صرف موجودہ بحران کو حل کرنے کے لیے سرگرم ہیں بلکہ ایک طویل المدتی امن کے قیام کے لیے بھی کوشاں ہیں، ان کی یہ مشترکہ حکمت عملی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دنیا میں طاقت کا توازن صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ سفارتکاری، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون سے بھی قائم رکھا جاتا ہے۔
اس تمام تر منظرنامے میں یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں اور جنگی خطرات ٹل جاتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی، اور اس کامیابی کا سہرا بڑی حد تک جنرل سید عاصم منیر اور محمد بن سلمان کی قیادت کو جائے گا، جنہوں نے ایک انتہائی نازک وقت میں نہ صرف قیادت کا حق ادا کیا بلکہ عالمی امن کے لیے عملی اقدامات بھی کیے، یہ کردار یقیناً تاریخ میں ایک اہم مقام رکھے گا اور آنے والی نسلیں اسے ایک مثبت اور فیصلہ کن قیادت کے طور پر یاد رکھیں گی۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی طاقت کی بساط پر پاکستان اور سعودی عرب ایک نئے توازن کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جہاں تصادم کے بجائے تعاون، کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور اس تاریخی تبدیلی میں جنرل سید عاصم منیر اور محمد بن سلمان کا کردار ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔



