تحریر: عابد حسین قریشی
زندگی میں مروت اور وضع داری کبھی بہت کچھ تھے، وقت کی گرد میں معاشرتی افراتفری میں جہاں ہم نے بہت کچھ کھویا، مروت و وضع داری سے بھی ہاتھ دو بیٹھے۔ ہم سمجھتے رہے، کہ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا، تمہی سو گئے داستاں کہتے کہتے۔
مگر اب پتہ چلا کہ داستاں شروع ہونے سے پہلے ہی زمانہ نیند کی آغوش میں جا چکا تھا۔ نہ کسی کے پاس وقت تھا، کہ وہ داستان سنتا، نہ شاید داستان میں ہی کوئی لوچ تھا، نہ درد تھا، نہ کشش۔ وقت بھی کیا بے رحم چیز ہے۔ ہم سمجھتے ہیں، کہ آج ہمارا وقت ہے، مگر وقت تو اقتدار، عہدے اور اختیار کا ساتھی ہوتا ہے۔
یہ تو بڑی تیزی سے بدلتا ہے، وہ لوگ جو واہ واہ کی گونج میں آپکی حماقتوں کے بھی قصیدے گاتے نہیں تھکتے، وقت بدلنے پر آنکھیں بھی چراتے ہیں، اور بوقت ضرورت آنکھیں دکھاتے بھی ہیں۔ وقت کے ہاتھوں لگے زخموں کی کہانی ہمارے ملک میں بڑے بڑے لوگوں کی اتنی درد ناک، اور خونچگاں ہے، کہ بہت سے نامور لوگ وقت کی گرد میں کہیں کھو گئے اور ایسا کھوئے کہ دنیا نے انہیں بالکل فراموش کر دیا۔
بدلتے وقت کی ہمارے آس پاس بیشمار کہانیاں ہیں، قصے ہیں، دلچسپ بھی، افسسوس ناک بھی، عبرت ناک بھی اور ہزیمت ناک بھی، حساس بھی اور دل شکن بھی، دل پزیر بھی اور دل افروز بھی، نمکین بھی اور شیریں بھی، سبق آموز بھی اور روح فرسا بھی۔
انسان بھی قدرت کی بڑی دلچسپ تخلیق ہے۔ رجھا ہوا ہو، صاحب اختیار ہو، تو اسکے نخرے دید کے قابل ہوتے ہیں، مگر ذرا مقدر ڈھلوان کا رخ اختیار کرے، تو چہرے کے مد و جزر سے ہی مایوسی کے گہرے سائے نظر آتے ہیں۔
اللہ کی کتاب میں انسان کو ساری مخلوق سے افضل ہونے کے ساتھ ساتھ، جلدباز، تھڑ دلا، ناشکرا، بخیل اور حریص بھی قرار دیا گیا ہے۔ اور اللہ سے زیادہ اپنی اس پراڈکٹ کو اور کون بہتر جان سکتا تھا۔ اگر اسکی خوبیوں پر نظر دوڑائیں تو سراپا محبت و شفقت، اور اگر دوسرا رخ دیکھیں تو کینہ و بغض سے لبریز۔
حضرت انسان کون اور کب کیسا رخ اور روپ اختیار کر جائے، اسکا تعین انسانی عقل آج تک نہیں کر سکی۔ محبت و نفرت کا یہ دلچسپ امتزاج انسانی سرشت سے جسکے سوتے پھوٹتے ہوں، اتنی جلدی سمجھ آنے والی چیز تو نہیں۔
اگر یہ محبت کرنے پہ آجائے، تو سب کچھ لٹا دے، اور جان کی بازی بھی لگا دے، اور اگر نفرت اور انتقام پر آجائے تو سب کچھ بہا لے جائے۔ یہ بیک وقت بہادر بھی ہے اور بزدل بھی، عورت کا غلام بھی اور عورت پر حاکم بھی، مال جمع کرنے والا بھی اور مال لٹانے والا بھی، سخی اتنا کہ سب کچھ مخلوق خدا پر خرچ کرکے بھی تسلی نہ ہو، اور بخیل اتنا کہ اپنے اوپر بھی خرچ کرنے سے کترائے۔
ایثار و وفا کا پتلہ بھی اور حرص و ہوس کا پجاری بھی۔ ہر آن اپنا رنگ اور انگ بدلنے پر تیار، نہ اسکو محبت راس آتی ہے، نہ نفرت سے نباہ کر پاتا ہے، الغرض رنگا رنگ کے اس گلدستے کو ہی انسان کہتے ہیں۔
اور انہی انسانوں کے سمندر کو کائنات۔ اس کائنات میں اگر رونق حضرت انسان سے ہے، تو شورش کا سبب بھی یہی ہے۔ صاف و شفاف ماحول کا طلبگار بھی اور فضاوں اور ماحول کو کثیف و آلودہ کرنے کا ذمہ دار بھی۔
یہ اس کائنات کا بیک وقت ہیرو بھی ہے اور ولن بھی، اسی نے اس کائنات کو نہ سمجھ آنے والا گورکھ دھندہ بنا رکھا ہے، اسی کائنات کی تخلیق پر شاید اس شعر سے بہتر روشنی نہ ڈالی جا سکے:
تخلیق کائنات کے دلچسپ جرم پر
ہنستا تو ہوگا آپ بھی یزداں کبھی کبھی



