جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ ضرور لکھا جائے گا کہ پنجاب کو مایوسی، بدحالی اور بے سمتی کے اندھیروں سے نکال کر امید، ترقی اور وقار کی روشنی کی طرف لے جانے والی رہنما کا نام مریم نواز شریف تھا۔ وہ رہنما جس نے اقتدار کو طاقت نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ بنایا، اور سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی فلاح کے لیے وقف کیا۔ وہ رہنما جس نے سیاست کو الزام تراشی کے شور سے نکال کر عوامی خدمت کی خاموش مگر مؤثر زبان عطا کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جس عزم، جرات اور خلوص کے ساتھ صوبے کی باگ ڈور سنبھالی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک ایسا صوبہ جو بدانتظامی، کرپشن، نااہلی اور تباہی کی دلدل میں دھکیلا جا چکا تھا، آج آہستہ آہستہ ایک نئے سفر پر گامزن نظر آ رہا ہے۔ یہ سفر مشکل بھی ہے، طویل بھی، مگر سمت درست ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ سمت درست ہو تو منزل خود بخود قریب آتی جاتی ہے۔
مریم نواز شریف کی قیادت میں سب سے نمایاں پہلو حکومت کی عملداری کی بحالی ہے۔ برسوں بعد پنجاب میں یہ احساس دوبارہ زندہ ہوا ہے کہ ریاست موجود ہے، اور ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔ پیرا فورس، سی سی ڈی اور جدید پولیسنگ کے اقدامات نے جرائم پیشہ عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی ہے۔ وہ عناصر جو برسوں سے خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے، آج قانون کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس کا خواب عوام نے برسوں سے دیکھا تھا۔
خصوصی طور پر خواتین کے تحفظ کے حوالے سے جو اقدامات کیے گئے ہیں، وہ تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلی مرتبہ خواتین یہ محسوس کر رہی ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں، کہ ریاست ان کے ساتھ ہے، کہ اگر ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی، بدتمیزی یا ناانصافی ہو تو فوری شنوائی ہوگی۔ یہ احساسِ تحفظ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور مریم نواز شریف نے اس بنیاد کو مضبوط کیا ہے۔
آج پنجاب کی ماں، بہن اور بیٹی جب گھر سے نکلتی ہے تو اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی جانے والی طالبات ہوں یا دفاتر میں کام کرنے والی خواتین، سب کے دل میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ اب خاموشی مجبوری نہیں رہی، اور انصاف خواب نہیں رہا۔
تھانہ کلچر میں تبدیلی، پولیس کے رویے میں نرمی اور عوام دوست طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت محض نعرے نہیں لگا رہی بلکہ عملی اقدامات کر رہی ہے۔ آج عام آدمی تھانے میں داخل ہوتے ہوئے خود کو مجرم نہیں بلکہ شہری محسوس کرتا ہے، اور یہی جمہوری حکومت کی اصل روح ہے۔
اسی طرح قبضہ مافیا کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں ایک انقلابی قدم ہیں۔ دہائیوں سے جن لوگوں نے ریاستی زمینوں اور کمزور شہریوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر رکھا تھا، آج وہ قانون کے شکنجے میں آ چکے ہیں۔ یہ وہ مافیا تھا جس کے نام سے لوگ کانپتے تھے، مگر آج وہی لوگ قانون کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ یہ صرف قبضے ختم ہونا نہیں بلکہ خوف کے خاتمے کا عمل ہے۔
منشیات، ملاوٹ، اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کے خلاف مہم نے بھی عوام کو حقیقی ریلیف دیا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فعالیت اور مؤثر کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب قوانین محض فائلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ زمین پر نافذ ہو رہے ہیں۔ آج شہری کو کم از کم یہ اطمینان حاصل ہے کہ ریاست اس کی صحت کے تحفظ کے لیے کھڑی ہے۔
صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت، شہری سہولیات کی بحالی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری نے پنجاب کے شہروں کی شکل بدلنا شروع کر دی ہے۔ وہ شہر جو چند ماہ پہلے گندگی، بدبو اور ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کرتے تھے، آج ایک بہتر اور منظم شکل اختیار کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پنجاب نے دوبارہ سانس لینا شروع کر دیا ہو۔
مریم نواز شریف صرف سڑکیں اور عمارتیں نہیں بنا رہیں بلکہ زندگیوں میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی جو عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی تھیں، اب آہستہ آہستہ دوبارہ عوام کی دسترس میں آ رہی ہیں۔ یہ حقیقی ترقی کی پہچان ہے۔
حال ہی میں جس انداز سے بسنت کا تہوار منایا گیا، وہ بھی مریم نواز شریف کی عوام دوست سوچ کا مظہر ہے۔ برسوں بعد پنجاب کے آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سجے، گھروں کی چھتوں پر خوشیاں لوٹ آئیں، اور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر گئیں۔ عوام نے اس اقدام کو بے حد سراہا کیونکہ یہ صرف ایک تہوار نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا کہ حکومت عوام سے خوشیاں چھیننے نہیں بلکہ انہیں واپس لوٹانے آئی ہے۔ خوشیوں پر پابندی نہیں بلکہ خوشیوں کو محفوظ بنانا اصل ریاستی ذمہ داری ہے، اور مریم نواز شریف نے یہ ذمہ داری نبھائی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں بھی پنجاب میں تیزی سے ترقی ہوئی تھی، مگر اس وقت سیاسی محاذ آرائی اور انتقام کی سیاست کے باعث بہت سے کام پس منظر میں چلے گئے۔ آج سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے دور میں کوئی بھی اچھا یا برا کام چھپ نہیں سکتا۔ مریم نواز شریف کی کارکردگی کھلے عام عوام کے سامنے ہے، اور عوام خود گواہی دے رہے ہیں کہ صوبہ درست سمت میں جا رہا ہے۔
مریم نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ان کا عوام سے براہِ راست رابطہ ہے۔ وہ محلاتی سیاستدان نہیں بلکہ گلی محلوں میں نظر آنے والی رہنما ہیں۔ وہ لوگوں کے دکھ سنتی ہیں، ان کے مسائل سمجھتی ہیں اور حل کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام انہیں محض ایک وزیراعلیٰ نہیں بلکہ ایک ہمدرد بیٹی، بہن اور رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مریم نواز شریف واقعی “دلیروں کی بیٹی اور شیروں کی بیٹی” ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ قیادت عمر یا جنس کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ عزم، حوصلے اور نیت کی محتاج ہوتی ہے۔
یقیناً یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مسائل اب بھی موجود ہیں، چیلنجز اب بھی سامنے ہیں، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب امید زندہ ہے۔ اور جس قوم میں امید زندہ ہو، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک ایسا دور جہاں قانون طاقتور کے لیے نہیں بلکہ کمزور کے لیے ڈھال ہے، جہاں ریاست خوف کی علامت نہیں بلکہ تحفظ کی ضمانانت ہے، اور جہاں حکومت اقتدار نہیں بلکہ خدمت کا نام ہے۔
یہی وہ پنجاب ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔
اور یہی وہ خواب ہے جسے مریم نواز شریف حقیقت میں بدلتی نظر آ رہی ہیں۔



