راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) راولپنڈی کے علاقے ثمر زار اڈیالہ روڈ میں دن دہاڑے پیش آنے والا دل دہلا دینے والا قتل دو ہفتے گزر جانے کے باوجود بھی معمہ بنا ہوا ہے۔ کاروباری شخصیت محمد ارشاد خان کو یکم دسمبر بروز سوموار تقریباً دن 2:50 بجے اس وقت بے دردی سے قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول سے لے کر گھر واپس جا رہے تھے۔ معصوم بچوں کے سامنے ہونے والا یہ لرزہ خیز واقعہ نہ صرف خاندان بلکہ پوری برادری کے لیے صدمہ اور دکھ کا پہاڑ بن کر ٹوٹا۔
عینی شاہدین کے مطابق دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار اچانک نمودار ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کر کے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تفتیش شروع کر دی، تاہم آج دو ہفتے گزرنے کے باوجود قاتلوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا جس نے لواحقین کی بے چینی اور دکھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے جبکہ شہریوں، سول سوسائٹی اور مقامی تاجروں نے اس سنگین واقعے پر گہری تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ سب کی ایک ہی آواز ہے کہ قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری عمل میں لائی جائے تاکہ علاقے میں امن بحال ہو اور متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
ادھر مقتول کی بیوہ، بچے اور دیگر لواحقین شدید کرب اور انتظار میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہمارا گھر اُجڑ گیا، بچے ہر روز اپنے باپ کو یاد کر کے سوال کرتے ہیں کہ قاتل کب پکڑے جائیں گے؟ ہمیں انصاف کب ملے گا؟”
ان کی آہوں، التجاؤں اور آنسوؤں میں ایک ہی مطالبہ چھپا ہے — انصاف۔
متاثرہ فیملی، اہلِ علاقہ اور شہریوں نے مشترکہ طور پر CPO راولپنڈی، IG پنجاب پولیس، ڈی پی او راولپنڈی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف سے پُرزور اپیل کی ہے کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے، بچوں کو انصاف دلایا جائے اور اس بہیمانہ واردات کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کوئی خاندان ایسے صدمے سے نہ گزرے۔
متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کی راہ تک رہا ہے ۔ امید، درد اور بے بسی کے سائے میں… انصاف کی منتظر آنکھیں حکام کی طرف دیکھ رہی ہیں۔
راولپنڈی قتل کیس: متاثرہ خاندان کی وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی پی او راولپنڈی سے فوری انصاف کی اپیل



