اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ روز ملک کے مختلف شہروں میں واقع بحریہ ٹاؤن کے دفاتر پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا اور اہم دستاویزات قبضے میں لی گئیں۔ یہ کارروائیاں بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین، ان کی فیملی اور قریبی ساتھیوں کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن پر بھاری پیمانے پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق ملک ریاض، ان کے بیٹے علی ریاض ملک اور قریبی ساتھی شاہد قریشی نے مختلف ذرائع، فرنٹ مین اور بین الاقوامی چینلز کے ذریعے تقریباً 1,058 ارب روپے غیر قانونی طور پر بیرون ممالک منتقل کیے۔ یہ رقوم دبئی، یورپ، انگلینڈ، بیلجیم، مالٹا، سعودی عرب، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی جیسے ممالک میں منتقل کی گئیں۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اس مبینہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک میں ملک کے کئی بااثر سیاسی، کاروباری اور سرکاری شخصیات شامل ہیں۔ ان میں اسلام آباد کے رہائشی چوہدری کاشف نظیر، سابق ایم ڈی بیت المال عابد وحید شیخ، ان کے بھائی عامر وحید شیخ، میاں ناصر جنجوعہ، زاہد رفیق (چیئرمین حبیب رفیق)، میجر (ر) عامر (ملک ریاض کے داماد اور مالک سٹی ہاؤسنگ)، زین ملک (بحریہ ٹاؤن کراچی کے انچارج) اور ماڈل ایان علی شامل ہیں۔
فہرست میں مزید اہم نام بھی شامل ہیں جیسے کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے بھائی خالد ملک، بلیو ایریا اسلام آباد کے کاروباری عمر ملک، کراچی و اسلام آباد میں گاڑیوں کے ڈیلر پومی ملک، اور بحریہ ٹاؤن و دیگر ہاؤسنگ منصوبوں سے منسلک ڈیلرز، افسران اور منی چینجرز جیسے چوہدری مشرف، چوہدری قیصر محمود، رانا گلفام، ماجد کیانی، فیصل قریشی، قیصر ملٹی، شیخ مظہر، شیخ طاہر اور دیگر۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے اس نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے نہ صرف نجی ذرائع، بلکہ پرائیویٹ جیٹس، کراچی پورٹ اور افغانستان بارڈر کا بھی استعمال کیا۔ اس پورے عمل میں مبینہ طور پر بعض سابق اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی کلیدی کردار ادا کیا، جن میں مرحوم وزیر داخلہ رحمان ملک، ان کے بھائی خالد ملک، سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال شامل ہیں۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ بحریہ ٹاؤن اور اس سے منسلک ہاؤسنگ منصوبوں میں ہزاروں کنال سرکاری و نجی اراضی پر قبضے اور غیر قانونی الاٹمنٹ میں بھی انہی افراد کا ہاتھ رہا ہے۔ اس میں مختلف پٹواری، سروئیر، لینڈ سپلائرز اور بحریہ ٹاؤن کے ڈائریکٹرز شامل ہیں۔



