اسلام آباد (نیشنل ٹائمز )جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہی، پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی، جمہوریت ہار رہی ہے۔پی ٹی آئی وفد کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمر ایوب اور اسد قیصر تشریف لائے، انہیں خوش آمدید کہتے ہیں، اپوزیشن جماعتوں میں رابطے رہیں، سیاسی تعاون رہے، اس پر ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تلخیوں کو دور کرنے کیلئے بات چیت ضروری ہے، اختلاف ختم نہیں کر سکتے تو رویوں کو نرم کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کھلے دل سے ہمیں خوش آمدید کہا، ہمارا تعلق پرانا ہے، مفید گفتگو ہوئی، یہ بات چیت آئندہ بھی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی پاسداری کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی، محمود اچکزئی اور ہر محب وطن کی یہی خواہش ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے جلسے اور کنونشن پورے پاکستان میں ہوں گے، آج پاکستان میں آئین نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پر پولیس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کہیں سے بھی سرمایہ کاری نہیں آرہی کیونکہ اس وقت ملک میں عدل و انصاف نہیں، جمہوریت پھلے پھولے گی تو سرمایہ کاری آئے گی۔ رہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے کہا کہ اس وقت ملک بنانا ری پبلک بن چکا ہے،پنجاب میں گندم بحران پر بات ہوئی، جن امور پر ہم متفق ہیں ان پر بات ہوئی، آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہمیں ایک ہونا پڑے گا،اس وقت ملک میں طاقت اور جنگل کا قانون ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا کو اللہ نے طاقت اورہمیت دی ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ان کو استعمال کریں، جب تک ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے تمام طبقات کو ایک ہونا ہو گا۔اسد قیصر نے کہا کہ جو جنگ جاری ہے یہ کسی کو گرانے کیلئے نہیں ہے، یہ قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ملک میں اگر قانون کی بالادستی نہ ہو تو ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
ملک میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہی، پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی، مولانا فضل الرحمان



