اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اتحاد کا مخالف ہوں، وہ اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد ساتھی کو چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ فن صرف انہی کو ہی آتا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ مولانا کہتے تھے کہ عورت کی حکمرانی حرام ہے اور محترمہ کی ہی حکومت میں ہی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے نوازشریف کے ساتھ تھے، پھر دوسری سائیڈ پر ہوگئے۔ مولانا کے ساتھ اتحاد کا مخالف ہوں، وہ اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد ساتھی کو چھوڑ جاتے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ مولانا صاحب اب کتنی خوبصورتی کے ساتھ حکومت میں حصہ دار ہیں، شاید مولانا گورنربننا چاہ رہے ہیں۔ یہ فن صرف انہی کو ہی آتا ہے۔ا نہوںنے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پرایک اورنیاکیس بن رہاہے، عمران خان پرجھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں، خان صاحب پرمزید3گھڑیاں ڈالی جارہی ہیں ہما را پی ٹی آئی سے عارضی اتحاد ہوا ہے ہم پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے ہیں۔صاحبزادہ حامدرضا نے کہا کہ طالبان کو عام معافی دینے پر بانی پی ٹی آئی سے اختلاف تھا، ریاست مخالف سے نہ صلح صفائی اور نہ ہی معافی ہونی چاہئے ،سیاسی حکومت کے ساتھ ہی مذاکرات ہونے چاہئے، اسٹیبلشمنٹ کو حکومت اپنے ماتحت کے طور پر ساتھ بٹھا کر مذاکرات کرے۔انہوں نے کہا کہ ملک سے محبت کرنے والے فوج سے لڑائی کے متحمل نہیں ہوسکتے پنجاب حکومت فسطائیت پر اتر آئی ہے، بانی پی ٹی آئی کااسمبلی سے استعفیٰ درست فیصلہ تھا میں بعض اوقات پارٹی فیصلوں کیخلاف بھی جاتاہوں، بطوراتحادی میں سمجھتاہوں کہ قوم ہم سے ناراض ہیں اور بجٹ کے بعدقوم معیشت کا انتقام لیں گے۔
مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اتحاد کا مخالف ہوں، ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد ساتھی کو چھوڑ جاتے ہیں، حامد رضا



