اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ کیا سچے سوالوں پر کھڑے ہونے پر پھانسی دی جاتی ہے تو میں اچھی روایات چھوڑنے کو تیار ہوں،جسٹس اطہر من اللہ نے مجھے پراکسی کہا ہے تو یہ الزام ہے اور اطہر من اللہ کو اب ثابت کرنا ہوگا ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ چیف جسٹس نے مجھے بلایا ہے تو میں ضرور جائوں گا،جو میں نے باتیں کیں وہ چیف جسٹس کو بتائوں گا ، مجھے ابھی تک عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں ملا ، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ایماندار چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کا موقع مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے سنگل آئوٹ کیا گیا مگر مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں، میرے علاوہ گورنر سندھ، طلال چودھری اور مصطفی کمال نے بھی بات کی ہے ۔میں نے کہا آپ ثبوت دے دیں ، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے ، اگر ریکارڈ اورثبوت نہیں ہیں تو وہ محض صرف الزامات ہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ سستی روٹی پر سٹے آرڈر ، چھٹی والے دن حکومت گرا دی جاتی ہے ، کیا یہ میرا گنا ہ ہے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر کسی نے کہا ہے میں پراکسی ہوں تو پھر انہیں ثابت کرنا ہو گا ، میں نے کسی پر الزام نہیں لگایا ۔ کیا سچے سوالوں پر کھڑے ہونے پر پھانسی دی جاتی ہے تو میں اچھی روایات چھوڑنے کو تیار ہوں ۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے عزت دی جائے گی تو میں ڈبل عزت دوں گا ،لیکن اگر میرے ساتھ بدمعاشی کریں گے تو میں ڈبل کروں گا ۔ میر ی پگڑی اچھالی گئی تو میں اس کی پگڑیوں کا فٹبال بنا دوں گا، میں نے کہا اگر سوشل میڈیا کمپین پر نوٹس لیں گے تو میں ساتھ ہوں۔میری مرحوم والدہ کیخلاف کمپین چلائی گئی مگر کوئی نہیں بولا ، مجھے دو مرتبہ اس پر سزا دی گئی جو میں نے گناہ ہی نہیں کیا تھا ، میرا ایک بات کرنے کا لہجہ ہے مگر میں نے کسی کو گالی نہیں دی ، اگر میں غلطی پر ہوا سب کے سامنے کسی سے بھی معافی مانگ لوں گا اور اگر میں غلط نہ ہوا تو گردن کٹا دوں گا لیکن معافی نہیں مانگو ں گا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی ، نسلہ ٹاور گرایا گیا ، آصف زرداری کو 14سال سزا دی گئی ، اس جج کا کیا ہوا ، ۔ انہوںنے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے مجھے پراکسی کہا ہے تو یہ الزام ہے اور اطہر من اللہ کو اب ثابت کرنا ہوگا۔ میں نے تو مداخلت کے ثبوت مانگے تھے ؟ اطہر من اللہ صاحب جرآت کرکے بتائے کہ میں کس کی پراکسی ہوں ؟ اس الزام کا دنیا اور آخرت میں سوال ہوگا اگر ثبوت نہ دیے تو جسٹس اطہر من اللہ کو انٹرنیشنل کورٹ میں لے جاں گا۔
کیا سچے سوالوں پر کھڑے ہونے پر پھانسی دی جاتی ہے تو میں اچھی روایات چھوڑنے کو تیار ہوں، فیصل واوڈا



