مظفر آباد(نیشنل ٹائمز)آزاد کشمیر بھر میں سستی بجلی اور سستے آٹے کی فراہمی کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جاری احتجاج اور شٹرڈائون و پہیہ جام ہڑتال دوسرے روز میں داخل ہوگئی ہے ، انتظامیہ کی جانب سے مظاہر ین کے مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کو روکنے کیلیے جگہ جگہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے بندکردیا گیا،اس دوران مشتعل مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئے ،مظاہرین کی جانب سے پتھرا ئو کے جواب میں پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کی ، تصادم کے دوران سب انسپکٹر عدنان قریشی جاں بحق ہو گیا جبکہ درجنوں پولیس اہلکار اور مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سستی بجلی اور آٹے کی فراہمی اور اشرفیہ کی شاہ خرچیوں میں کمی کے مطالبے کو لے کر آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک زور پکڑ گئی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال ہفتے کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔ہڑتال اور احتجاج کے باعث آزاد کشمیر بھر میں تمام کاروباری مراکز، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہفتہ گیارہ مئی کو ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں لانگ مارچ کا اعلان کررکھا تھا ۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ روکنے کے لیے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو ملانے والی سڑکوں پر انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں بندکردیا گیا جبکہ راستوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی تاہم رکاوٹوں کے باجود مظاہرین کی بڑی تعدا د سڑکوں پر نکل آئی اور جلسے جلوس و ریلیاں نکالی گئیں ۔ شرکاء کی جانب سے مطالبات کے حق میں اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی ۔مظفرآباد میں مشتعل مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئے، مظاہرین کی جانب سے پتھرائو کرنے پر پولیس نے جواب میں آنسو گیس کی شیلنگ کی، میرپور میں لانگ مارچ میں شرکت کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد جلوس کی شکل میں ضلع کچہری پہنچی۔مظاہرین نے مہنگی بجلی نہ منظور، مہنگا آٹا نہ منظور کے نعرے لگائے، ضلعی انتظامیہ نے میر پور میں دفعہ 144 نافذ کررکھی ہے۔ اس دوران میرپور آزاد کشمیر مظاہرین کے ساتھ تصادم کے دوران گولی لگنے سے زخمی اے ایس آئی زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔سب انسپکٹر عدنان فاروق قریشی میرپور آزاد کشمیر کے تھوتھال تھانہ میں تعینات تھے۔ گزشتہ روز اسلام گڑھ کے مقام پر احتجاجی مظاہرین کے ساتھ تصادم کے نیتجے میں شدید زخمی ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ مظاہرین کی جانب سے کی گئی۔مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور آنکھ مچولی جاری رہیں ،درجنوں کی تعداد میں مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ۔
آزاد کشمیر میں سستی بجلی، سستے آٹے کی فراہمی کی تحریک زورپکڑ گئی، احتجاج اور شٹرڈائون و پہیہ جام ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی



