اسلام آباد(نیشنل ٹائمز )جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پشاور کا جلسہ ضرورکریں گے،ہم اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، پشاور جلسے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل بنائیں گے،ہمارے ملین مارچ کا9 مئی کے واقعات سے تعلق نہیں،جے یوآئی پورے ملک میں عوام کی قیادت کریگی، ہم ہی ہی ملک میں تبدیلی لائیں گے،،تحریک انصاف سے معاملات بنتے ہیں توبہت اچھی بات ہے، ہم نے شخصی طورپر کسی کی توہین نہیں کی ، ن لیگ اور جے یو آئی دوست رہنا چاہتے ہیں۔ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے پشین اور کراچی جلسہ کرکے دکھادیاعوام کیاہوتی ہے پشاورجلسے میں بھی عوام دیکھادیں گے۔ ملتان میں ہم نے بہت بڑااجتماع کیا تھا۔ کشمیرہائی وے اورمیدان بھرے ہوئے تھے۔ عوام کو نظراندازنہیں کیاجاسکتا، عوام کی رائے کیساتھ ظلم ہوا ہے، پشاور جلسے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل بنائیں گے۔جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تحریک صرف جلسوں کانام نہیں، ہم نے جلسوں کے ذریعے دنیا کو عوام کی رائے بتائی، جے یوآئی پورے ملک میں عوام کی قیادت کریگی، ہم ہی ہی ملک میں تبدیلی لائیں گے۔پشاور جلسے میں بھی یہ پیغام ہو گا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کیا کہتے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے وفود آئے ہم نے انکا روایت کے مطابق خیرمقدم کیا ، تحریک انصاف اور ہمارے درمیان پہاڑ کھڑے تھے ،ہمارے ہاں ایک سوال ہے کہ پی ٹی آئی ایک پیج پرکیوں نہیں ،تحریک انصاف سے معاملات بنتے ہیں توبہت اچھی بات ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہم نے شخصی طورپر کسی کی توہین نہیں کی ۔ پی ٹی آئی کے ایک دو لوگو ں کے بیانات آجاتے ہیں ہم ان کا نوٹس نہیں لے رہے، ہمارے پاس آنے والے ہی ہمارے لئے پی ٹی آئی ہے اور ہم اپنی بات پرقائم ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ن لیگ اور جے یو آئی دوست رہنا چاہتے ہیں ۔ن لیگ والے چاہتے تھے ہم حکومت میں آئیں، ہم نے ان سے کہا ہے اپوزیشن میں آجائیں ۔اگر پی ٹی آئی کو اکثریت ملی ہے تو انہیں حکومت دیدیں۔نوازشریف میرے دوست اور بھائی ہیں مجھے اندازہ ہے وہ بھی اس صورت حال سے پریشان ہیں ۔انہوںنے کہا کہ میں راز وں کا بڑاخیال رکھتا ہوں ،احترام کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا ہمیں بھی کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ کھیل رہی ہیں ،کوئی ہمیں راستے میں چھوڑتا ہے تو یہ ان کا رویہ ہے ۔انہوںنے کہا کہ اسٹیلشمنٹ اپنے اپنے امیدوار کھڑے کرتی ہے ، آزاد امیدوار کھڑاکرتی ہے یا پارٹی سے ٹکٹ دلواتی ہے،2008ء میں ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ اسٹیلشمنٹ کا بھی کردارہوتا ہے،ایک ساتھی نے کہا جتنے چاہے بڑے جلسے کرو،سیٹیں وہی ملیں گی جو وہ دیں گے ۔انہوں نے کہا مجھے گزشتہ حکومت میں چیئرمین سینیٹ بننے کی پیش کش ہوئی تھی لیکن میں نے انکار کردیا اور پھر یوسف رضا گیلانی بن گئے ۔انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی کو صوبائی حکومت ملی تھی اس کے باوجود وہ میدان میں آئے کہ دھاندلی ہوئی ،پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں اکثریت ملی ہے تو انہیں بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ دھاندلی ہوئی ،تحریک میں جے یو آئی والے اکیلے ہیں ہم اپنے اصول سے پیچھے ہٹتے پر تیارنہیں ۔9 مئی کے واقعات پر مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ہمار ے ملین مارچ کا9مئی کے وقعات سے تعلق نہیں، 9 مئی کے واقعات پر ہم نے بھی احتجاج کیا تھا، اور اداروں پرحملے کاپوری قوم نے نوٹس لیا تھا ۔
ہمارے ملین مارچ کا9 مئی کے واقعات سے تعلق نہیں، پشاور جلسے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل بنائیں گے، مولانا فضل الرحمان



