اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پنجاب کے گندم نہ خریدنے سے بحران پیدا ہوا، 2200سے اچانک 4000 کا ریٹ مقرر کرنا بڑی غلطی ہے، پنجاب حکومت کو نقصان اٹھا کر بھی گندم خرید لینی چاہئے ۔سابق وزیر خزانہ نجی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کاروباری لوگ ہیں۔ملیں اور فیکٹریاں بھی ہیں۔تیل بھی امپورٹ کرتے ہیں۔ہماری فیکٹریاں 100کروڑ سے زائد کا ٹیکس دیتی ہیں۔ گندم مہنگی ہوگی تو آٹا بھی مہنگا ہوگا،ایسا نہیں ہوسکتا کہ گندم مہنگی اور آٹا سستا ہو۔ گزشتہ سال سندھ حکومت نے گندم کا ریٹ 4000 روپے فی من مقرر کیاتھا۔ اس بار پنجاب حکومت نے گندم خریدنے سے انکار کردیا۔ بحران پنجاب حکومت کے گندم نہ خریدنے سے پیدا ہوا۔ اس میں کوئی قدغن نہیں پنجاب حکومت کو فارمرز سے گندم خریدنی چاہئے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پنجاب حکومت کو نقصان اٹھا کر بھی گندم خرید لینی چاہئے۔حکومت کو تھوڑا سا نقصان برداشت کر کے بحران پر قابو پا لینا چاہئے تھا۔ حکومتی فیصلوں کے نتائج آئندہ سال آنا شروع ہوں گے،آٹے کا کچھ بھی متبادل نہیں ہوتا۔ 2200سے اچانک 4000 کا ریٹ مقرر کرنا بڑی غلطی ہے۔
پنجاب حکومت کے گندم نہ خریدنے سے بحران پیدا ہوا، مفتاح اسماعیل



