اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنا بانی پی ٹی آئی کی بڑی خامی ہے ، ہماری اسٹیبلشمنٹ کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ سیاست میں شامل رہی ہے ۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے موڈ سوئنگس ہوتے ہیں اس کی مثال 2018 اور2024ء کے انتخابات ہیں ۔مصطفی نواز کھوکھر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی یہ ایک خامی ہے کہ وہ ہر چیز کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب دیکھتے ہیں ، ان کا کندھا اور بے ساکھی استعمال کر کے حکومت میں آتے ہیں اور پھر وہ اتنے سمجھوتے کر لیتے ہیں کہ درست انداز میں کام نہیں کر سکتے ، بانی پی ٹی آئی سیاسی رہنمائوں نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب دیکھتے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی یہ ایک خامی ہے کہ وہ ہر چیز کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب دیکھتے ہیں ، ان کا کندھا اور بے ساکھی استعمال کر کے حکومت میں آتے ہیں اور پھر وہ اتنے سمجھوتے کر لیتے ہیں کہ درست انداز میں کام نہیں کر سکتے،بانی پی ٹی آئی سیاسی رہنمائوں نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب دیکھتے ہیں اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ سیاست میں شامل رہی ہے ۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے موڈ سوئنگس ہوتے ہیں اس کی مثال 2018 اور 2024ء کے انتخابات ہیں جس میں نیشنل انٹرسٹ میں تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاست میں آ نا چاہیے لیکن اب نیشنل انٹرسٹ میں یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاست میں نہیں آنے دینا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کے حوالے سے کہا کہ ہماری سیاسی جماعت ایک ڈیڑھ ماہ میں سامنے آجائے گی ، پارٹی کی تنظیم نو پر کام جاری ہے تمام رہنمائو ں سے بار چیت جاری ہے،جلد پارٹی کا نام بھی بتائیں گے ۔
ہرچیز کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنا بانی پی ٹی آئی کی بڑی خامی ہے، مصطفی نواز کھوکھر



