اسلام آباد (آئی این پی )جمعیت علما اسلام ف کے سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی ستر سے اسی ارب روپے میں خرید گئی۔پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیسہ خصوصی بکسوں میں بھر کر جہازوں میں لایا گیا،اگر یہ حال بلوچستان کا ہے تو کے پی اسمبلی کا کیا حال ہو گا 75سالوں سے ملک میں اسلام نافذ نہیں کیا گیا۔ملک صرف نام کا اسلامی جمہوریہ ہے۔الیکشن محض ڈرامہ بازی ہے ،عوام کے فیصلے تبدیل کردئیے جاتے ہیں۔مرضی کی پارلیمان بنائی جاتی ہے۔ پاکستان کا وجود خطرے میں ہے،ملک پھر تقسیم ہو گا۔سیاسی قیادت اپنے گریبان میں جھانکے۔سیاستدانوں کا کردار درست نہیں ہے ۔ہم دوسروں کے لیے کندھا بنتے ہیں۔ہمیں ملک کے مستقبل کا سوچنا ہو گا۔ہمیں اداروں نہیں عوام کے ساتھ چلنا ہے۔
بلوچستان اسمبلی 70سے 80 ارب روپے میں خرید گئی، سینیٹر مولانا عطا الرحمن کاانکشاف



