پشاور(نیشنل ٹائمز) خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی کا کہنا ہے کہ وہ نو منتخب اراکین اسمبلی کو حلف نہیں دلاسکتے، رول آف لاءپر یقین رکھتے ہیں، ہم اگر خلاف ورزی کرینگے تورول آف لاءسے کیا توقع کریں گے،پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا فیصلہ موصول ہوا تو لیگل ٹیم کے ساتھ مشورہ کیا، اجلاس سمن نہیں ہوا اسلئے حکم پر عمل درآمد نہیں کرسکتے۔
ججزاورعدالیہ کااحترام کرتے ہیں، عدالیہ کے سامنے حقائق رکھنے آئے ہیں، اجلاس بلانے کے بعد ہی ممبران سے حلف لیا جاسکتا ہے۔بابرسواتی کا مزیدکہنا تھا کہ سینٹ انتخابات کل ہونگے یا نہیں الیکشن کمیشن جواب دے سکتا ہے۔ہم ہر وقت اجلاس بلانے کیلئے تیار ہیں، پولنگ اسٹیشنز ڈکلیئر ہوچکے ہے،عدالت حکم دے تو اجلاس بلائیں گے۔
قبل ازیں پشاور ہائی کورٹ کے خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران سے حلف لینے کے حکم کے خلاف سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے نظرثانی درخواست دائر کردی ہے۔
علی عظیم آفریدی ایڈووکیٹ کی وساطت سے نظرثانی درخواست دائر کی گئی، درخواست میں صوبائی حکومت، الیکشن کمیشن، سیکریٹری قانون اور اپوزیشن ممبران فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران سے حلف لینے کا حکم دیا، اسمبلی اجلاس ہے نہ کوئی ریکوزیشن آئی ہے، ممبران سے حلف کیسے لیا جائے؟اس میں استدعا کی گئی کہ عدالت فیصلے پر نظرثانی کرکے پہلے والی درخواستیں خارج کردیں۔
یاد رہے کہ 27 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے کیس میں اپوزیشن ممبران کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسپیکر کو ممبران سے حلف لینے کا حکم دے دیا تھا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سپیکر ممبران کو رول آف ممبرز پر دستخط کی اجازت دے اور مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران کو سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت دی جائے۔



