راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) فیض آباد پر پولیس کے ساتھ تصادم کا پہلا مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں 250 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت درج کیا گیا ہے، مظاہرین کے تشدد و پتھراو سے 3 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جب کہ مظاہرین نے پولیس پٹرولنگ گاڑی بھی توڑ ی۔مقدمے میں پنجاب مینٹی نینس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 16 بھی شامل کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی مختلف 8دفعات بھی مقدمے میں شامل ہیں۔پولیس کے مطابق ڈی چوک احتجاج کیلئے آنے والوں کا فیض آباد پر پولیس کے ساتھ تصادم ہوا، جس کا مقدمہ تھانہ صادق آباد میں درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے 17 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ 250 ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث گزشتہ روز دن بھر شہر اقتدار کے حالات کشیدہ رہے جگہ جگہ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔
ڈی چوک پہنچنے پر پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان او عظمیٰ خان سمیت کئی کارکنوں کوبھی دھرلیاگیا ہے۔یہ بھی بتایاگیا ہے رات پتھر گڑھ کے مقام پر گزارنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔وزیر اعلیٰ پختونخواہ علی امین گنڈا پور نے ہر صورت ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور فوج کے دستوں کے علاوہ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی تعینات ہیں، دارالحکومت میں پاک فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون سروس اور میٹرو بس سروس بند ہے جبکہ انٹرنیٹ کی سروس متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، اس کے علاوہ نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسلام آباد کی تمام بڑی شاہراہیں اور موبائل فون سروس بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جڑواں شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز موجود ہیں۔
شہر میں امن و امان کیلئے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے آئندہ دو روز کیلئے ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوچکا ہے، خلاف ورزی کرنے والے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔جڑواں شہروں میں چلنی والی میٹروبس سروس بھی آج مکمل طور پر بند رہے گی، راولپنڈی صدر اسٹیشن تا پاک سیکریٹریٹ تک میٹرو بس سروس بند رہے گی۔



