راولپنڈی(نیشنل ٹائمز)اسلام آباد ڈی چوک پر احتجاج کیلئے وزیراعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں آنے والا قافلہ راولپنڈی پہنچ گیا،پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کا سلسلہ جاری،پی ٹی آئی مظاہرین کی جانب سے پولیس پر جوابی پتھراو اور شیل اٹھا کر واپس پھینکنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شدید مزاحمت کے بعد پی ٹی آئی مظاہرین نے پتھر گڑھ کٹی پہاڑی کے مقام پر رکاوٹوں کو عبور کرلیا۔
ٹیکسلا کے علاقے ٹھٹہ خلیل کے مقام پر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی۔پاکستان تحریک انصاف کے قافلے کے 8 سو کارکن پنڈی کی حدود میں داخل ہوگئے۔ مرکزی قافلہ پھتر گڑھ کٹی پہاڑی مقام پر رکاوٹیں ہٹا کر راستہ کلیئر کرنے میں مصروف ہے جس کے پیچھے پیدل شرکاءپیش قدمی کررہے ہیں۔
26 نمبر چنگی پر کارکنوں نے ایک کرین اور ایک موٹرسائیکل کو آگ لگا دی۔
آج صبح ہوتے ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور کا قافلہ ڈی چوک کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔ قافلے نے رات برہان انٹرچینج سے متصل علاقے میں گزاری جبکہ قافلے کے شرکا کنٹینر ہٹانے میں مصروف رہے۔دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور فوج کے دستوں کے علاوہ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی تعینات ہیں۔ دارالحکومت میں پاک فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون سروس اور میٹرو بس سروس بند ہے جبکہ انٹرنیٹ کی سروس متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں اس کے علاوہ نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث گزشتہ روز دن بھر شہر اقتدار کے حالات کشیدہ رہے جگہ جگہ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔قبل ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے اسلام آباد کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس آج بھی بند رکھنے کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا ہ سے بھی پاک فوج کے دستے اسلام آباد کیلئے روانہ ہو گئے ہیں۔اسلام آباد میں مختلف شاہراہوں پر پاک فوج کے دستوں کو گشت جاری ہے جبکہ جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس آج بھی بند رکھنے اور رکاوٹیں نہ ہٹانے کا امکان ہے۔گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کی سیکیورٹی کے سلسلے میں 5 سے 17 اکتوبر تک فوج کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سمٹ کیلئے فوج کی تعیناتی آرٹیکل245 کے تحت کی گئی ہے اور 5 سے 17 اکتوبر تک دارالحکومت میں فوج تعینات رہے گی۔



