پشاور (نیشنل ٹائمز) صوبہ خیبرپختونخواہ کی حکومت نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس جھوٹ کا پلندہ قرار دیدی۔ مشیر اطلاعات خیبرپختونخواہ بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ قافلے کی جانب سے فائرنگ کا الزام بے بنیاد ہے، علی امین گنڈاپور کے نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے عزائم کچھ اور ہیں، محسن نقوی حکومت کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پر نہ ڈالیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس جھوٹ کا پلندہ ہے، افغان باشندوں کی احتجاج میں شمولیت کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا سے قافلے میں پی ٹی آئی کارکن ہی موجود ہیں، علی امین گنڈاپور نے کوئی ریڈ لائن کراس نہیں کی، ریڈ لائن وفاقی حکومت نے کراس کی ہے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے امن مارچ کو روکنے کے لیے سیکڑوں کنٹینرز رکھے ہیں، علی امین گنڈاپور کا قافلہ اپنی منزل کی طرف دوبارہ روانہ ہوگیا، پولیس، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہم محب وطن پاکستانی ہیں، اسلام آباد پر یلغار کرنے نہیں جا رہے، ہم اپنے آئینی اور قانونی حق کے لیے نکلے ہیں اس لیے پولیس راستوں میں ہمارے لیے رکاوٹیں کھڑی نہ کرے، مزید رکاوٹیں نہ ہوں تو وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور ایک گھنٹے میں ڈی چوک پہنچ جائیں گے۔
بیرسٹر سیف کہتے ہیں کہ علی امین گنڈاپور اور کارکنوں نے رات برہان انٹر چینج قریب کھلے آسمان تلے گزاری، رات بھر علی امین اور قافلے کے شرکاء کنٹینرز ہٹانے میں مصروف رہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے درخواست ہے عوام سے نہ ٹکرائیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر واپس ہوں گے اور کوئی آپشن نہیں ہے، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی معطلی کے باعث رابطوں میں مشکلات ہیں لیکن ہم رابطوں کے لیے متبادل ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔



