اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت اپنے قتدار کو طول دینے کیلئے آئینی ترمیم کی کوشش کررہی ہے، کچھ لوگ 20، 20سال کرسی پر بیٹھے رہے لیکن ملک کو کچھ نہ دے سکے، عوام کیلئے کوئی قانون اور پالیسی نہیں بنتی ، ایسے حالات میں ملک کیسے ترقی کرے گا؟ انہوں نے سابق رکن اسمبلی سرفراز افضل کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رات کے اندھیرے میں آئینی ترامیم کرنا چاہتے تھے۔
چوری شدہ ووٹ کے نتیجے میں جو حکومت میں بیٹھے ہیں، کیا ان افراد کو ملک کے آئین میں ترمیم کرنے اور ملک چلانے کا حق ہے؟یہ واضح حقیقت ہے کہ ان حالات میں ملک نہیں چل سکے گا۔ ہمارے ساتھ بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا ہے، ہم چاہتے ہیں یہ جماعت گراس روٹ لیول سے ہو، چند الیکٹیبلز کا ٹولہ نہ ہو، بلکہ عوامی سطح پر جماعت بنے اور ملک کے مسائل کی بات کرے۔
ملک میں آئین کے نفاذ اور عوام کے فلاح وبہبود کی بات کرے، یہ وہ تمام باتیں ہیں جو آپ آج پاکستان کی سیاست میں نہیں سنتے۔ آج پاکستان کی سیاست گالی گلوچ اور ایک دوسرے پر الزام لگانے کا نام ہے، آج عوام کیلئے کوئی بات نہیں کرتا، عوام کیلئے کوئی قانون نہیں بنتا۔عوام کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنتی ، صرف اقتدار کو مضبوط کرنے ، طول دینے اور مفاد حاصل کرنے کیلئے آئینی ترامیم کی کوشش کی جارہی ہے، ایسے حالات میں ملک کیسے ترقی کرے گا؟ کسی ملک میں سنا ہے کہ عوام کو تحفظ دینے والی پولیس خود احتجاج کررہی ہو، ایک ہی مطالبہ کررہے ہیں کہ پولیس پر حملہ آورہونے اور قتل کرنے والے تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
24 کروڑ کا ملک ہے اور حالت یہ ہے کہ پولیس بھی احتجاج کررہی ہے۔ قانون بنتے ہیں جلسہ ایسا ہوعوام کو تکلیف نہ ، یہاں عوام کو جلسوں سے نہیں حکومت کے اقدامات سے تکلیف ہوتی ہے، پورا شہر کنٹینرز رکھ کر بند کردیئے گئے۔ 24 کروڑ لوگوں کا دارالحکومت بند کردیا گیا۔ موٹروے کو ریت کی دیوار بنا کر بند کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے جو کچھ کیا پورا پاکستان جانتا ہے ، عمران خان نے ایک پیسے کا کام نہیں کیا، اخلاقی اقدار کو تباہ کیا۔
جمہوریت کا اصول ہے کہ قانون کے دائرے میں احتجاج آئینی حق ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ ہر آدمی اخلاقی دائرے میں بات کرسکتے، یہ ایسی سوچ کہاں سے آئی ہے؟جس مسلم لیگ میں ہم تھے اس میں یہ سوچ نہیں ہوا کرتی تھی۔ہم نے مشرف ، پیپلزپارٹی اور ساڑھے تین سال عمران خان کا دور بھی دیکھا۔



