اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلزپارٹی نے جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو انہیں اپنی ترامیم لانے کی تجویزدیدی،پیپلزپارٹی کے وفد نے سربراہ جے یو آئی سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورت حال اور مجوزہ آئینی ترامیم پر بات چیت کی گئی جبکہ آئینی عدالت کے قیام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے وفد میں نیر حسین بخاری، شیری رحمان، نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب شامل تھے جومولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں جمعیت علماءاسلام (ف)کے رہنماؤں نے انہیں خوش آمدید کہا ۔ملاقات کے دوران رہنماؤں نے آئینی ترامیم کے حوالے سے دیگر جماعتوں سے مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔مولانافضل الرحمان اور پیپلزپارٹی وفد میں ملاقات کے دوران طے پایا کہ مشاورت کے بعد ہی آئینی ترمیم پر کوئی مسودہ سامنے آئے گا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنماء نوید قمر کا کہنا تھا کہ آئینی پیکج کامسودہ حکومت کی جانب سے آیاہے ہماری آئینی مسودے پربات چیت چل رہی ہے۔ سیاسی گفت و شنید چل رہی ہے اسی لئے مولاناکے پاس آئے ہیں۔آج کی ملاقات میں یہی فیصلہ ہواہے کہ آئینی پیکج پرباقی جماعتوں کےساتھ بھی مشاورت جاری رکھیں گے اپوزیشن سے بھی بات چیت کریں گے مشاورت کے بعد ہی کوئی مسودہ سامنے آئےگا۔
مولانافضل الرحمٰن کےساتھ کافی خوشگوارماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔آئینی پیکج پرکافی خوشگوارماحول میں ہماری گفتگو ہوئی ہے۔آئینی پیکج کامسودہ حکومت کی جانب سے آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے۔ ہم مشترکہ ایجنڈا لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہم حکومت میں شامل نہیں لیکن حکومت کے حمایتی ہیں۔ ہماری سیاسی امور پر ملاقات ہوئی ہے۔ ہم اپوزیشن سے بھی گفتگو کریں گے ہم وسیع سطح پر قومی مفاہمت کی کوشش کریں گے۔ہم قومی ایجنڈا پر مشاورت کررہے ہیں اس کے بعد مسودہ لائیں گے۔



