پشاور (نیشنل ٹائمز) خیبرپختونخواہ قرض کے خاتمے کیلئے خصوصی اکاونٹ بنانے والے پہلا صوبہ بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ مزمل اسلم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخواہ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے قرض اتارنے کیلئے اکاؤنٹ بنا دیا ہے، اس اکاؤنٹ سے اگلے 10 دنوں میں صوبہ کے مکمل قرض کا 5 فیصد ٹوکن ادائیگی کر دی جائے گی۔
مشیر خزانہ خیبر پختونخواہ مزمل اسلم نے مزید بتایا ہے کہ دو سال پہلے پاکستان کا مجموعی قرض 43 ہزار ارب روپے تھا، پی ڈی ایم حکومت کے دو برسوں میں پاکستان کا قرض 71 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا، اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوا کا قرض صرف ساڑھے 600 ارب روپے ہے۔ صوبہ سندھ پر ایک ہزار ارب سے اوپر کا قرض ہے، اس کے علاوہ قرض کے پیسوں سے گندم خریدی ہے جو تقریبا 500 ارب ہے۔
صوبہ پنجاب پر 1700 ارب کا قرض ہے، ایک ہزار ارب روپے گندم کے دینے ہیں، سندھ پر پنشن بقایاجات 6 ہزار ارب روپے جبکہ پنجاب پر تقریباً 10 ہزار ارب روپے ہیں۔ مزمل اسلم نے سوال اٹھایا ہے کہ میڈیا پر سندھ اور پنجاب کے قرضوں کی تفصیلات کیوں نشر نہیں ہوتیں؟۔ پنجاب اور سندھ والے میڈیا کو اشتہارات دیتے ہیں، اس لیے ان کا قرض نہیں بتایا جا رہا۔ یہاں واضح رہے کہ وزارت خزانہ بھی پاکستان کے قرضوں کا حجم 71 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر جانے کی تصدیق کر چکی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا ہے کہ جون 2024 تک مجموعی سرکاری قرضوں کا حجم 71.2 ٹریلین روپے تھا جس میں 47.2 ٹریلین روپے ملکی اور 24.1 ٹریلین روپے کے بیرونی قرضے شامل ہیں۔



