اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ حکمت عملی کا فقدان ہے، اصلاحات کے ذریعے بجلی 10روپے یونٹ تک سستی ہوسکتی ہے،رواں سال کے اختتام پر 10پاورکمپنیو ں کی نجکاری ہوجائے گی،9ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کوسبسڈی دی جاتی تھی جسے بند کر دیا گیا،اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ بجلی کی پیداواری قیمتوں میں کمی کی کوشش کررہے ہیں۔
پاور پلانٹس اورآئی پی پیز کے معاہدوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔پاورریفارمزکے تحت این ٹی ڈی کو3حصوں میں تقسیم کررہے ہیں۔پاور سیکٹرکوبہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ریفارمزکی ضرورت ہے۔ پاکستان کوآئی پی پیزکے حوالے سے تحفظات ہیں۔ گردشی قرضوں اور بلند شرح سود کا بوجھ صارفین پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سیاسی معاملات بہت خراب تھے۔
ماضی میں حکومت کے احکامات پرعمل درآمدنہیں کیا جاتا تھا۔وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کمزور طبقے کو بجلی کے بلوں میں 500ارب کی سبسڈی دی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی تجاویز زیر غور ہیں جبکہ آئی پی پیز کے معاہدوں پرنظرثانی کررہے ہیں۔ 2034 تک 2700میگاواٹ اضافی بجلی کی ضرورت ہے۔ ہائیڈل پاوراورسولرانرجی سے مزیدبجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔
فنانشل ایڈوائزراورنجکاری کمیشن کیساتھ رابطے میں ہیں۔ 3سرکاری ڈسکوزکونجی شعبے کے حوالے کرنے کیلئے ایک ماہ میں مالی مشیرکا تقرر ہو گا۔ 70فیصد پاور پلانٹس حکومتی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ پاورسیکٹرمیں ذمہ داریاں د ے کرمسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ ماضی میں بیورو کریسی،پاورڈویژن کے پاس کام کرنے کی اہلیت نہیں تھی۔ پاورسیکٹرکے چندماہ میں مکمل ہونیوالے پراجیکٹ سالوں نہ ہوسکے۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ حکمت عملی کافقدان ہے۔ سرکلرڈیٹ اوربلندشرح سودکابوجھ صارفین پرپڑرہاہے۔ ای وی چارجنگ اسٹیشن ملک بھرمیں بنائیں گے۔ پیڑول امپورٹ میں کمی ہوگی۔



