اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس منظوری کے بعد باقاعدہ قانون بن گیا، جس کے بعد آرڈیننس پر عملدرآمد بھی شروع کردیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کی منظوری کے بعد جسٹس امین الدین خان کو تین رکنی ججز کمیٹی میں شامل کرلیا گیا ہے، جب کمیٹی میں پہلے سے موجود جسٹس منیب اختر کو 3 رکنی ججز کمیٹی سے باہر کردیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جسٹس امین الدین خان کو کمیٹی رکن نامزد کیا۔ جسٹس امین الدین خان سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یاد رہے 3 رکنی ججز کمیٹی بینچز تشکیل اور انسانی حقوق کے مقدمات کا جائزہ لیتی ہے۔
واضح رہے صدر مملکت آصف علی زرداری نے ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دئیے،صدر مملکت کے دستخط کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس جاری کر دیا گیا ،وزارت قانون نے گزشتہ روز آرڈیننس وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو بھجوایا تھا، کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظوری دے دی تھی۔
وفاقی کابینہ نے مسودے کی منظوری سمری سرکولیشن کے ذریعے دی اب پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 پر صدر مملکت نے دستخط کردئیے ہیں۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2 کی ذیلی شق ایک کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی۔ کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہو گی۔ آرڈیننس سے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے مقدمات مقرر کرنے میں اختیار بڑھ جائیں گے۔
آرڈیننس کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان، سینئر جج اور چیف جسٹس کا مقررکردہ جج کیس سماعت کیلئے مقررکرے گا۔ آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن تین میں ترمیم کی گئی ہے، سیکشن تین کی ذیلی شق دو کے تحت اور آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت معاملہ پر سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی۔



