اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان مسلم لیگ( ن) کے راہنما سینیٹر طلال چوہدری نے کہاہے کہ حکومت نے آئینی ترامیم پر مشاورت کے لیے معاملہ 10 سے 15 روز تک موخر کر دیا گیا ہے ‘اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے نمبرز دو تہائی کے قریب تھے لیکن مشاورت کے لیے آئینی ترامیم کا معاملہ 10 سے 15 روز کے لیے موخر ہو گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کا معاملہ ایک دم ہی معاملہ موخرکرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے جواب دیا کہ19 آئینی ترمیم کے بعد سے پارلیمنٹ یرغمال ہے جب بھی یہ بازیاب ہو سکے جلدی کروانی چاہیے اٹھارویں آئینی ترمیم میں اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کا اختیار پارلیمنٹ کو دے دیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد انیسویں آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کا حق ختم کر کے اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن بنا دیا گیا تھا جس میں اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کو شامل کیا گیا تھا۔
تحریک انصاف کو آئینی ترمیم میں اعتماد میں لینے کے معاملے پر طلال چوہدری نے جواب دیا کہ ساری جماعتیں جو اس وقت پارلیمنٹ کے اندر ہیں اگر کسی اچھے کام وہ حصہ ڈالنا چاہیں تو وہ بھی تاریخ کا حصہ بن جائیں گے آف دی ریکارڈ تو پی ٹی آئی والے بھی یہی کہتے ہیں عدلیہ کی اصلاحات ہونی چاہیے اور وہ بھی یہ کرنا چاہتے تھے مولانا فضل الرحمان کی رضامندی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ساری لیڈر شپ کا فیصلہ ہے کہ اگر مشاورت کے لیے مزید لوگ شامل ہو سکتے ہیں تو وقت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ہم نے عددی اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن کو مزید موقع دیا ہے.
قبل ازیں آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ترامیم پر اتفاق ہوگیا تو ایوان میں لائیں گے آئینی مسودے کو آئینی شکل دے کر منظور کروائیں گے آئینی عدالت میثاق جمہوریت کا حصہ ہے اور کئی ممالک میں یہ موجود ہے آئینی عدالت عدلیہ کی ہی ملکیت رہے گی یہ آئینی معاملات ہی دیکھے گی. انہوں نے کہا کہ عام سائل کے مقدمات کا جلد فیصلہ ہو گا ایک کیس کا فیصلہ 25 سال میں ہوا، عدالتوں میں 27 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں ان کا جلد فیصلہ ہونا چاہیے، جو ووٹ ڈالا جائے گا وہ گنا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہمارا ان ترامیم میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہے ہم پارلیمنٹ کی عزت کے لیے آئین کے مطابق توازن چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کا کردار ربڑ سٹیمپ کا نہیں ہونا چاہیے ججوں تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن کو ضم کرنے کی تجویز ہے جو حق ہمارا بنتا ہے وہی چاہتے ہیں جو تجاویز ہم نے دی ہیں اس میں کون سی شق حکومتی اتحاد کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے؟. انہوں نے کہاکہ ہم اس ادارے کی عزت اور حق اور اسے مضبوط کرنے کے لیے یہ ترامیم لائے ہیں اس مسودے کو حتمی شکل نہیں دی گئی کابینہ سے پاس ہونا ضروری ہے اور ہم اس پر اتفاق رائے چاہتے ہیں یہ عمل جاری رہے گا۔



