اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پی ٹی آئی رہنماءاسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس ڈرافٹ نہیں توبتائیں یہ نسخہ کہاں سے آیا، حکومتی نمائندوں کو پتہ نہیں توآئینی ترامیم کا ڈرافٹ کہاں سے آیا،پارلیمنٹ کاجس طرح مذاق بنااس کی مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ کوربڑسٹیمپ کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی گئی،قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی نے مزید کہا کہ افسوس ہے کہ اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے جیسے حالات کا مقابلہ کیا انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ وزیرقانون خود فرما رہے تھے میرے پاس کوئی دستاویزنہیں۔ ظلم کے ذریعے پارلیمنٹ میں قانون سازی سے بہترموت ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا چھٹی والے دن ترامیم لانے کی کوشش چوری اورڈاکا نہیں۔
چھپکے سے قانون سازی کوچوری کہتے ہیں۔ ہمارے 7 لوگوں کواغوا کیا گیا انہیں پنجاب ہاو¿س میں رکھا ہے۔
اسد قیصر کا مزید کہنا تھاکہ سب سے زیادہ افسوس پیپلزپارٹی اوربلاول بھٹو پر ہے۔ بلاول بھٹوکوسب علم ہے ان کے پاس پورا ڈرافٹ ہے۔ آئینی ترمیم 25 کروڑعوام پراثراندازہوتی ہے۔قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کل بہت حکمت اور دانائی کے ساتھ فیصلہ کیا۔ مجھے افسوس بلاول بھٹو پر ہے جو اس آئینی ترمیم کے بارے میں علم ہونے کے باوجود جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو کے علم میں ہے اس ترمیم کے ذریعے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ اس ترمیم کے بعد کم از کم بلاول بھٹو یا پیپلز پارٹی کو جمہوریت کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ حکومت ترمیم سے آئین کا حلیہ بگاڑنے جارہی ہے۔ یہ آئینی ترمیم آرٹیکل 8 میں کی جارہی ہے، آرٹیکل 8 شہریوں کے بنیادی حقوق کے بارے میں ہے، ملٹری کورٹس میں سویلینز کا ٹرائل بھی اس ترمیم کا حصہ ہے۔ہم سمجھ نہیں آرہی کہ حکومت کو کس بات کی جلد ی ہے۔آئینی ترامیم کرنا اتنا ہی ضروری تھا تو اسے پہلے ایوان میں لایا جاتا تاکہ تمام ممبران اس پر بحث کرتے لیکن حکومت رات کے اندھیرے میں چھپ کر قانون سازی کرنا چاہتی ہے ۔



