اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی مسودہ شیئر نہیں کیا گیا، ہمارا مطالبہ تھا مسودہ دیا جائے تو ہم اُسے دیکھیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو مسودہ لیک ہوا، اُس کے مطابق تو کوئی بھی بندہ اِن کے ساتھ اتفاق رائے نہیں کر سکتا، مسودے کے تحت تو ججز کو جب مرضی ٹرانسفر کر دیا جائے، اس کے مطابق یہ جب چاہیں ججز کو ٹرانسفر کریں گے اور اگر کوئی انکار کرے گا تو اس سے استعفیٰ لے لیں گے، ایسے تو عدلیہ پر قدغن لگ جائے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ یہ آئینی ترمیم عوامی حقوق کی خلاف ورزی ہے، آئینی ترامیم نہیں ہے بلکہ آئین کو ریورس کرنے کی کوشش ہے، سربراہ جے یو آئی ف نے جو قدم اٹھایا وہ بہترین تھا، مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے مسودے کی کاپی مانگی، مولانا نے پی ٹی آئی کے سامنے کوئی شرط نہیں رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عدلیہ کو کمزور کرنے کی کو شش کی جارہی ہے، خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں جو بات ہوئی وہ تو نہیں بتا سکتے، وزیر قانوں نے ہمیں کچھ بریف کیا لیکن اس کمیٹی کا کوئی کام نہیں کہ اس بل پر بات کرے، کمیٹی میں ان کیمرہ گفتگو ہوئی، ہم نے صرف سنا ہے اور کوئی تجویز نہیں دی، حکومت نے آج بھی ہم سے بل شئیر نہیں کیا، ہمارے ایم این ایز ہمارے ساتھ ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کہتے ہیں کہ صرف ہمارے دو اراکین اس وقت رابطے میں نہیں ہیں، ہمارے جن اراکین کے ساتھ رابطہ نہیں ان کے ووٹ اگر کاسٹ ہوتے ہیں تو وہ ہم نہیں مانتے، ہمارے بندے قائم ودائم ہیں، اگر کوئی آزاد رکن ہے لیکن وہ کسی جماعت کا حمایت یافتہ ہے تو وہ اسی پارٹی کو ہی سپورٹ کرے گا، 2 ستمبر کو ہم نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایات جاری کر دی تھیں، ہم نے اپنی ہدایات کی کاپی کی مکمل فائل اسپیکر آفس میں بھی جمع کرائی ہے۔



