اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) چیف کمشنر اسلام آبادمحمد علی رندھاوا کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں صورتحال کنٹرول میں ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب این او سی جاری کیا گیا تھا تو سب کو بتایا گیا تھا، جلسے کیلئے 4 سے 7 بجے تک کا وقت دیا گیا تھا، 7بجے کے بعد جلسہ غیر قانونی ہے اور غیر قانونی جلسے جلوس سے متعلق ایک ایکٹ پاس ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کو این او سی آج نہیں بہت پہلے دیا ہو اتھا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے جلسہ منتظمین کو بھی آگاہ کیا تھا کہ غیر قانونی جلسے پر قانون حرکت میں آئے گا لیکن جلسے کا مقررہ وقت بڑھانے کیلئے نہ کسی نے درخواست دی اور نہ ہی کسی نے بات کی، 26نمبر چونگی پر انہوں نے غیر قانونی روٹ لیا تھا جس پر شیلنگ ہوئی۔
دوسری طرف ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے جلسہ کے شرکا کو منتشر کرنے کا حکم دے دیا، انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت کر دی، اس حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جلسہ کے منتظمین کو 6 بجے اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ وہ این او سی کے مطابق جلسہ سات بجے ختم کرنے کے پابند ہیں، جلسے کا وقت دوپہر 4 بجے سے شام 7 بجے تک کا تھا اور سات بجے کے بعد جلسے کا جاری رہنا این او سی کی خلاف ورزی ہے۔
علاوہ ازیں اسلام آباد کے علاقہ 26 نمبر چورنگی کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے آمنے سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے ایس ایس پی سیف سٹی شعیب خان زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے کئی پولیس والوں کی حالت غیر ہوگئی، پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی۔



