اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے متحرک ہوگئے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق چوہدری شجاعت نے پہلے لاہور میں پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویزالہٰی سے ملاقات کی، جس میں ذاتی و خاندانی سطح کے معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے پر اتفاق ہوا، پرویز الہٰی سے ملاقات کے بعد چوہدری شجاعت حسین نے اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، اراکین پارلیمنٹ، سینئر صحافیوں سمیت حکومتی شخصیات سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ صدر ق لیگ نے وفاقی دارالحکومت میں سابق صدر وسیم سجاد، مشاہد حسین سید، محمد علی درانی سمیت اراکین پارلیمنٹ نےملاقاتیں کیں، سابق وفاقی وزیر چوہدری وجاہت حسین، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، پارٹی ترجمان مصطفیٰ ملک بھی ان ملاقاتوں میں ان کے ہمراہ تھے، اس دوران ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو سوچنا چاہیے کہ جب سے نئی پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے، ارکان پارلیمنٹ نے کتنی مرتبہ قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کے لئے پارلیمان میں بات کی ہے؟ اور قومی یکجہتی کے لئے کیا کردار ادا کیا ہے؟ کیوں کہ حالات کا تقاضا ہے کہ مل جل کر پاکستان کو آگے بڑھایا جائے ایسا ماحول بنایا جائے کہ ملک مین آئین وقانون کی بالادستی ہونی چاہیئے اور ون پوائنٹ ایجنڈا قومی اتفاق رائے ہونا چاہیئے اور تمام سیاستدان مل کر اس پر اپنا کردارادا کریں، اراکین پارلیمنٹ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسائل سے نکلنے کے لیے قومی ایجنڈا ترتیب دیں، قومی رہنماؤں کو سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے آگے آنا چاہیئے، سیاستدان ذاتی مفادات اور تعصبات کو ترک کرکے قومی مفادات کو ترجیح دیں۔



