اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پی ٹی آئی رہنماءشیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں لے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے ، آج کل کے دور میں تو ہر دوسرا بندہ تشدد یا دباؤ کے تحت وعدہ معاف گواہ بن جاتا ہے،بانی پی ٹی آئی کیخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا، جو کام اگر فیض حمید نے کیا ہے تو میرا خیال ہے کہ اس سے کہیں بڑھ کر کام آج ہو رہا ہے،ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی کا نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کا دو صورتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے ایک تو یہ کہ سویلین نے کسی آرمی افسر کے ساتھ مل کر بغاوت کا ارتکاب کیا ہو۔
دوسری صورت یہ کہ دشمن کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سازش رچائی ہو۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی گرفتاری کی بات ہے تو فیض حمید کے خلاف نہ تو بغاوت کا الزام ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چارج شیٹ ہے بلکہ ان پر تو صرف بھتہ خوری کا الزام ہے۔
نیب ترامیم بحالی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ نیب ترامیم کے فیصلے سے کرپشن کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔
8ستمبر کو اسلام آباد میں جلسے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اب تک پی ٹی آئی کے 5 جلسے منسوخ ہو چکے ہیں لہٰذا یہ 8 ستمبر کا جلسہ منسوخ کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم مار کھا لیں گے لیکن 8 ستمبر کا جلسہ ہر صورت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 22 اگست کا جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی افسوسناک تھا۔ اس بار بھی جلسہ نہ ہوا تو عوام کا بھروسہ لیڈر شپ سے اٹھ جائے گا تاہم بانی پی ٹی آئی اس سے بری الذمہ ہوں گے کیونکہ وہ جیل میں ہیں۔
ہمیں 8ستمبر کا جلسہ ہر صورت کرنا ہوگا ۔ کارکن اس وقت شدید غصے میں ہیں اب اگر جلسہ منسوخ ہوا تو کارکنوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اقتدار میں سٹیبلشمنٹ کے طفیل ہی تو بیٹھی ہوئی ہے۔ فارم 47 پورے پاکستان میں کس نے مینج کیا اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کون سا ایسا فعل ہے جو غیرسیاسی ہے۔



