اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کیا حکومت کے پاس فیصلوں کا اختیار ہے؟ کیا ان کے پاس صلاحیت ہے فیصلہ کرنے کی یا اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر پارلیمان خود بات چیت کرے اور ملک کے اندر اضطراب کو ختم کرے،سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین کو ملک کیلئے غیر ضروری سمجھنے سے زیادہ بڑی حماقت کوئی نہیں،قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) نے مزید کہا کہ سب چیزیں اپنے اندر سمیٹنا اور سارے معاملات کیلئے فیصل آباد کا گھنٹا گھر بن جانا یہ شاید ایک خواہش ہوسکتی ہے مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔
اس صورتحال میں ہمیں قدم اٹھانا چاہیے۔ملک کے وسیع تر مفاد میں سب کو آگے آنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم لڑیں گے، تنقید کریں اپوزیشن کا کرداد ادا کریں گے لیکن جب بھی ملک کو ضرورت پڑی توہم اپنا کردار نبھائیں گے۔ پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور قائدین کو ملک کے غیر ضروری سمجھنے سے زیادہ بڑی حماقت کوئی نہیںہو سکتی۔ ہم اس وقت پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ ہمارے مفادات کی جنگ نہیں۔ عالمی قوتیں اس کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے مزید کہا کہ سیاستدانوں کو مکمل با اختیار بنایا جائے ۔ملک میںسیاسی لوگوں کی اہمیت ختم کی جارہی ہے۔ جہاں معروف اور تجزبہ کار ہے ان کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے اور ظاہر ہے اس کی جگہ نئے نوجوان لیں گے مگر وہ تجربہ نہیں رکھتے اور جذباتی ہوتے ہیں اس سے معاملات اتنے الجھ جاتے ہیں کہ اس گتھی کو سلجھانا مشکل ہوجاتا ہے۔
سی پیک اور اس جیسے سب معاملات ہیں جن کے سامنے رکاوٹیں کھڑی ہوگئی ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت کا علاقہ مسلح قوتوں کے قبضہ میں ہے۔ وہاں کوئی کام نہیں ہوسکتا۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ کچھ علاقوں میں آج سکولوں اور کالجوں میں پاکستان کا ترانہ نہیں پڑھا جاسکتا۔ پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جاسکتا۔
یہاں تک صورتحال خراب ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے میں افغانستان گیا وہاں باہمی تجارت، افغان مہاجرین پر بات چیت کی میں افغانستان سے کامیاب ہو کر واپس لوٹا تھا، ہم ذمہ داریاں کسی اور پر ڈال دیں اس طرح نہیں چلے گا۔ سندھ میں ڈاکووں کا راج ہے۔ کچے کی صورتحال کو دیکھ کر پریشان ہیں۔ پارلیمنٹ سے درخواست ہے کہ آگے بڑھیں اور ان سے گفتگو کی جائے۔ جب ریاست ناکام ہو جاتی ہے تو ہم جا کر وہاں صورتحال کو کنٹرول کرتے ہیں۔



