اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں 9 مئی کے معاملات کوئی نہ کوئی شکل ضرور اختیار کرلیں گے،سارے تانے بانے عمران خان سے ملتے ہیں، یہ معاملات منطقی انجام کو پہنچیں گے، عمران خان نے جو کچھ کیا ہے اس کی فلم ذہن میں چلتی ہوگی، عمران خان کا بیرون ملک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخترمینگل نے استعفا دیا ہے،ہمیں ان کو انگیج کرنا چاہیئے، ان کے تحفظات ہیں تو ہمیں ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرانی چاہیئے، اخترمینگل سے بالکل بات چیت ہوسکتی ہے، اختر مینگل کو استعفا واپس لینے کیلئے ہمیں ان کے خدشات دور کرنے چاہئیں، اخترمینگل کے ذریعے کہلوایا جائے کہ ہم بلوچستان کے مسائل حل کریں گے بلوچستان کی بہتری کے ہم نے کئی مواقع ضائع کردیئے۔
میں نے ڈان میں پڑھا کہ ایک چھوٹی سی سڑک ہے کہ اس کا پانچ بار افتتاح ہوا ہے۔ بلوچستان میں اس طرح کے سینکڑوں مثالیں ملیں گی، کہ فنڈز دیئے کہ لیکن منصوبے نہیں بنے۔ اس سے ان عناصر کو تقویت پہنچی جو پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہمیں ان عناصر کو ختم کرنا ہوگا جن کو افغانستان یا ہندوستان سپورٹ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے معاملات قومی نوعیت کے نہیں ہیں، وہ ایک بندے کی ذات سے شروع ہوتے ہیں وہاں پر ہی ختم ہوجاتے ہیں،چار سال حکمرانی کی، کیا نیشنل ایجنڈا دیاہے؟خیبرپختونخواہ میں 14سال سے حکومت ہے، وہاں کھربوں روپے بہا دیئے گئے۔
پی ٹی آئی کا بڑا محدود سا ایجنڈا ہے جو ایک شخص کے اردگرد گھوم رہا ہے۔پی ٹی آئی کے اندر چار گروپ بن چکے ہیں۔ عمران خان کی بیگم، ہمشیرہ، وزیراعلیٰ کے پی اور ارکان قومی اسمبلی ان کے اپنے گروپس ہیں۔پی ٹی آئی کے منہ کو اسٹیبلشمنٹ کا نشہ لگا ہوا ہے، وہ بار بار اسٹیبلشمنٹ کو آوازیں لگا رہے ہیں ، ان کے نزدیک سیاسی جماعتوں کی کوئی وقعت نہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ ہم ہوں بس ۔خواجہ آصف نے کہا کہ اگر محمود اچکزئی کے پاس مینڈیٹ ہے تو کیا بانی پی ٹی آئی اس کمٹمنٹ کو تسلیم کریں گے؟محمود اچکزئی نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، نیشنل ڈائیلاگ میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ بھی آجائے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ان مذاکرات میں شامل ہونا چاہتی ہے، لیکن اگر براڈ بیسڈ مذاکرات ہوتے ہیں تو عدلیہ بھی شامل ہو۔
پاکستان کے50سالوں کی شکست وریخت میں سب نے حصہ ڈالا ہے۔میڈیا کمرشلائز ہوگیا ہے، ملک ریاض کا نام نہیں لیتا، کیونکہ روزی روٹی کا معاملہ ہے،میڈیا ملک ریاض کے ساتھ سودا کرلیتا ہے، مطلب اس گند میں میڈیا بھی اپنا حصہ زور سے ڈال رہا ہے۔وزیردفاع نے کہا کہ آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں 9 مئی کے معاملات کوئی نہ کوئی شکل ضرور اختیار کرلیں گے، سارے تانے بانے عمران خان کی طرف جاتے ہیں، یہ معاملات منطقی انجام کو پہنچیں گے، عمران خان نے جو کچھ کیا ہے اس کی فلم ذہن میں چلتی ہوگی، عمران خان کا بیرون ملک بڑا نیٹ ورک موجود ہے، عمران خان جیل میں اکیلے نہیں ہیں، میڈیا سے بھی گفتگو کرتے ہیں، نوکیا3300اور دنیا کامحفوظ ترین فون بھی استعمال کرتے ہیں۔



