لاہور ( نیشنل ٹائمز ) لاہور پولیس نے ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کے قتل کے مبینہ ملزم طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ مقتول کے بیٹے حمزہ نے اندراج مقدمے کی درخواست دی، جس پر قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، مقدمے میں امیر بالاج کے بھائی امیر فتح اور قیصر بٹ کو نامزد کیا گیا ہے۔
اندراج مقدمہ کی درخواست کے متن میں کہا گیا کہ لاہور کے علاقہ شاہ جمال کے قریب ٹریفک سگنل پر کار رکی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی، امیر فتح اور قیصر بٹ نے میرے والد اور والدہ پر فائرنگ کی، امیر بالاج ٹیپو کے قتل کے مبینہ ملزم طیفی بٹ کا بہنوئی فائرنگ سے قتل مقتول کے بیٹے حمزہ کا درخواست میں کہنا ہے کہ میری والدہ نے حملہ آوروں کو شناخت کر لیا ہے۔
گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت لاہور کے کینال رو ڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے طیفی بٹ کے بہنوئی کو قتل کر دیا،مقتول کی شناخت جاوید بٹ کے نام سے ہوئی ، مسلم ٹاؤن کے قریب جاوید بٹ اپنی گاڑی میں سوار تھے کہ اسی اثناءمیں نامعلوم افراد نے انہیں ٹارگٹ کیا اور ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی ، فائرنگ کے واقعہ میں طیفی بٹ کا بہنوئی جاویدبٹ موقع پرہی جاں بحق ہوگیا جب کہ جاویدبٹ کی اہلیہ بھی فائرنگ سے زخمی ہوئی ، فائرنگ کے بعد نامعلوم ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے جب کہ گاڑی میں بیٹھی جاوید بٹ کی بیٹی معجزانہ طور پر فائرنگ سے محفوظ رہی، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اورموقع سے شواہد اکھٹے کیے ، مقتول جاوید بٹ کی لاش اوران کی زخمی اہلیہ کوفوری طورپر ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔
اس حوالے سے ایس پی ماڈل اخلاق اللہ کا کہنا تھا کہ مقتول جاید بٹ اقبال ٹاؤن کے رہائشی تھے، جاوید بٹ اپنی بیوی ثمینہ کے ہمراہ اپنی پوتی اور پوتوں کو سکول سے لینے جا رہے تھے کہ اس دوران جب ایف سی کالج انڈر پاس کے قریب پہنچے تو دو موٹر سائیکلز پر سوار چار افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، 5 گولیاں جاوید بٹ کو اور دو گولیاں ثمینہ جاوید کو لگیں، حملہ آور گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے اچھرہ کی طرف سے آئے تھے اور فائرنگ کے بعد ایف سی کی طرف فرار ہو گئے۔



