راولپنڈی(نیشنل ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءعلی محمد خان کا کہنا ہے کہ ملک کی عزت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے،8 فروری کو پرامن انقلاب آچکا ہے،آپ جنگ ہار چکے ہیں،ہماری بات دوست ممالک سننے کو تیار نہیں،راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بانی پی ٹی آئی عمران خان لڑ رہا ہے۔
عمران خان پر ہاتھ ڈالا گیا تووہ عوام کی عزت پر ہاتھ ڈالا گیا۔ قوم کی طرف سے میسج آچکا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔کراچی میں پروفیسر کے ساتھ جو ہوا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ استاد کو اس لئے اٹھایا گیا کہ انہوں نے ناجائز کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس جج کے خلاف یہ ہو رہا ہے جو جھکا نہیں۔ایک جج کا قلم بکنے پر تیار نہیں اس کے خلاف یہ سب ہو رہا ہے۔
میرا سوال ہے کہ کیا ملک میں مہنگائی کم ہوئی ہے ۔آج ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے ۔ بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے عوام خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔ حکومت کو کسی بات کی فکر نہیں ہے۔ان کی ساری توجہ تو بس اپنی مرضی کی قانون سازی پر مرکوز ہے ۔ یہ لوگ عدلیہ کی تقسیم چاہتے ہیں ۔پی ٹی آئی عدلیہ کیخلاف ہونی والی ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نئے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 16 ستمبر تک توسیع کردی تھی۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی تھی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا سلمان صفدر، انتظار پنجوتھا اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو بھی کمرہ عدالت میں پیش کیا گیاتھا۔
نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی، عمیر مجید عدالت میں پیش ہوئے تھے۔وکیل صفائی سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کا نیا ریفرنس پہلے ریفرنس جیسا ہی ہے ایک ہی طرح کے الزام میں دو ریفرنس نہیں بنائے جاسکتے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ دستاویزات سے ہی ثابت ہوسکتا ہے کہ نیا ریفرنس پہلے ریفرنس سے مشابہت رکھتا ہے یا نہیں۔اس کے ساتھ ہی نیب پراسیکیوٹر نے توشہ خانہ کے پرانے ریفرنس کا جوڈیشل ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست دی تھی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی جوڈیشل ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 16 ستمبر تک توسیع کردی تھی۔



