لاہور (نیشنل ٹائمز) صرف 1 سال میں گھریلو صارفین کیلئے بجلی 250 فیصد مہنگی ہو جانے کا انکشاف، ایک سال کے دوران پاکستان کے گھریلو صارفین کے بجلی کے ماہانہ اوسط بل 250 فیصد تک بڑھ گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بجلی مہنگی ہونے سے متعلق ہوشربا اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال میں بجلی مہنگی ہونے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، مہنگی بجلی نے خاص کر گھریلو صارفین کی معاشی کمر مکمل طور پر توڑ کر رکھ دی۔
انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں رواں سال بجلی کا اوسط ماہانہ بل 100 ڈالر سے بڑھ کر 350 ڈالر پر پہنچ گیا ،جولائی میں رہائشی صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، بجلی کی کھپت کے مصروف ترین اوقات کے دوران، ملک کو اکثر بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے رہائشیوں کو بھی پریشانی ہوتی ہے۔
مہنگی بجلی کے اس بحران پر سابق نگران وزیر گوہر اعجاز نے بھی آواز بلند کی ہے۔
اپنے ایک بیان میں سابق نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان صرف 40 خاندانوں کا نہیں ہے، 40 خاندانوں کو بچانے کیلئے پورے ملک کو داؤ پر نہیں لگانا چاہئے، پاکستان کا ہر گھر بجلی کی وجہ سے پریشان ہے، صنعت کا پہیہ رکنے سے اکانومی کا پہیہ رک جاتا ہے۔ بجلی کا نظام حکومت سے نہیں چل رہا، 1 لاکھ کروڑ روپے آئی پی پیز کو مفت دیئے جا رہے ہیں۔
سابق نگران وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے، آئی پی پیز سے ایسے معاہدے کیے گئے جو دنیا میں کہیں نہیں ہوئے، ایسے معاہدوں کے ہوتے ہوئے ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ایسے معاہدے پاکستان کی اکانومی سے خون چوس رہے ہیں، دنیا میں فی یونٹ 7 سے 9 سینٹ تک ریٹ ہے،پاکستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ دوسری جانب 24 آئی پی پیز کو 10 سالوں میں 1200 ارب روپے سے زائد ادا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
10 سال میں صرف 24 آئی پی پیز کو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود 1200 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔ یہ 24 پاور پلانٹس گیس، آر ایل این جی اور فرنس آئل سے چل کررہے ہیں۔ ان بجلی گھروں میں 11 بجلی گھر گیس اور آر ایل این جی پر چل رہے ہیں جو اب بھی فعال ہیں،یہ پلانٹس 1994 اور 2002 کی پاور پالیسی کے تحت لگائے گئے تھے، ان گیارہ بجلی گھروں کو 488 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ باقی 13 پاور پلانٹس جو فرنس آئل سے بجلی پیدا کررہے ہیں ان کو 758 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔
فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے والے دو بجلی گھروں کا پاور پرچیز ایگریمنٹ ختم ہوچکا ہے اور باقی اب بھی فعال ہیں، مجموعی طور پر ان پاور پلانٹس کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان میں صرف دو سے تین پاور پلانٹس میرٹ آرڈر میں اوپر ہیں باقی سب 39 نمبر سے نیچے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ پاور پلانٹس 70 ، 72، 68، 67 ویں نمبر پر بھی ہیں، ان بجلی گھروں کے ہیٹ ریٹ زیادہ ہیں جبکہ پلانٹ فیکٹر کم ہیں، یہ بجلی گھر زیادہ ایندھن پر کم اور مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں اور جب یہ فعال نہیں رہتے تو خراب ہو جاتے ہیں۔ پاور پلانٹس میں ہزاروں مرتبہ فنی خرابیاں سامنے آنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔



