اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹرعقیل ملک نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا فطرتی الائنس ن لیگ کے ساتھ بنتا ہے پی ٹی آئی سے نہیں، اگر الائنس ہوا تو وفاق اور بلوچستان میں کچھ لے دو بھی ہوگا ، شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کسی آئینی ترمیم کیلئے نہیں ہوئی، آئینی ترمیم کیلئے دوتہائی اکثریت چاہیئے جو کہ نہیں بنتی۔
انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں منگل کا دن پرائیویٹ ممبران بل کیلئے ہوتا ہے، اس بار کچھ یوں ہوا کہ جے یوآئی ف کے نورعالم کی کچھ ترامیم تھیں، ایک ہمارے ممبر دانیال چوہدری ہیں، حکومت کا ان کے بلز کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ ان کے اپنے لائے ہوئے بلز ہیں، دانیال چوہدری نے بل میں مطالبہ کیا کہ ججز کی تعداد 17سے 23کی جائے، فی الحال یہ بل ٹیک اپ نہیں ہوا، یہ دوبارہ لایا جائے گا۔
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ اگر ارکان اسمبلی دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو پھرسول سرونٹس اور ججز پر بھی یہی قانون لاگو ہونا چاہے۔ بابرستارکے پاس امریکا کا پاسپورٹ نہیں ہے فی الحال گرین کارڈ ہے ، امریکی قوانین کے مطابق وہ نیشنل ضرور ہیں لیکن شہری نہیں ہیں۔ کچھ ہائیکورٹس کے 2سے 4 حاضر سروس ججز بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں، ان ججز کے پاس باقاعدہ غیرملکی پاسپورٹ بھی ہے، دوہری شہریت والے ججز کا لاہور اور سندھ ہائیکورٹ سے تعلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا مئوقف ہے کہ توہین عدالت کا قانون رہنا چاہیئے اس سے عدالتی احکامات کا احترام ہوتا ہے، مجھے نہیں پتا کہ بل کیوں لایا گیا ہے، کیونکہ یہ بل بھی پرائیویٹ ممبر کا بل ہے۔بیرسٹر عقیل نے کہا کہ شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات سے متعلق میں نہیں کہہ سکتا کہ آئینی ترمیم آرہی ہے؟آئینی ترمیم کیلئے دوتہائی اکثریت چاہیئے ہوتی ہے، لیکن سات آٹھ ممبران ملاکر بھی نمبرز کم پڑتے ہیں۔تمام سیاسی جماعتوں سے بات ہونی چاہئے، ایک بات بتادوں کہ مولانا فضل الرحمان کا فطرتی الائنس ہمارے ساتھ ہی بنتا ہے پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں، الائنس کیلئے وفاق اور بلوچستان میں کچھ لے دو بھی ہوگا ۔



