اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کی نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی،چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 3 ستمبر کو سماعت کرے گا، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی بنچ کا حصہ ہوں گے،لا مونتانا اور سن شائن ہائیٹس کی درخواستیں بھی3 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئیں۔
مونال اور لا مونتانا نے تین ماہ میں عدالت کو ریسٹورنٹس خالی کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں پر واقع مونال ریسٹورنٹ کو سیل کر کے اسے قبضے میں لینے کا حکم دیا گیا تھا۔عدالت نے انتظامیہ کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں 8 ہزار 600 ایکڑ زمین کے حقیقی مالک کے نشاندہی کرنے والے بیان کو جمع کروانے کا بھی حکم دیا تھااپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ مونال ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اور سی ڈی اے کے درمیان لیز کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔
مزید برآں عدالت نے 30 ستمبر 2019 کو مونال ریسٹورنٹ اور ملٹری سٹیٹ افسر کے تحت کام کرنے والے ملٹری ونگ ریماو¿نٹ، ویٹرنری اینڈ فارمز ڈائریکٹوریٹ (آر ایف وی ڈی) کے درمیان ایک معاہدے کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔واضح رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیاتھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا تھاکہ آرٹیکل 9، 14 کے مطابق زندگی ہر چرند پرند کا بنیادی حق ہے، سائنس سے ثابت ہوچکا دنیا میں کوئی تخلیق بغیر مقصد کے نہیں، سائنس ثابت کر رہی ہے کہ دنیا پرندوں، درختوں اور جانوروں سے خالی ہو رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا تھاکہ 11ستمبر سے وائلڈ لائف بورڈ مونال کا کنٹرول سنبھالے، سی ڈی اے اور پولیس کی مدد سے قبضہ لیا جائے، ریسٹورنٹس کو جانے والے راستے بیریئر لگا کر بند کئے جائیں۔ وائلڈ لائف کو ڈسٹرب کئے بغیر ریسٹورنٹس کی عمارات گرا دی جائیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھاکہ ریسٹورنٹس کی جگہ کو کیسے استعمال میں لانا ہے۔
وائلڈ لائف ماہرین سے رائے لی جائے، ماہرین سے رائے لی جائے کہ کیا وہاں پانی کیلئے مصنوعی جھیل بنائی جا سکتی ہے۔تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ سیکرٹری وزارت دفاع یقینی بنائیں کہ نافذ شدہ قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے، چیئرمین سی ڈی اے فوراً سیکرٹری وزارت دفاع کو نافذ العمل اور قابل اطلاق قوانین پر رہنمائی دیں۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھاکہ کسی صورت میں عمارت کو ویران نہیں چھوڑنا چاہیے اور نہ ہی ملبہ اس جگہ پر رہنے دیا جائے، ہر ممکن کوشش کی جائے کہ یہ زمین دوبارہ نیشنل پارک کا ایک لازمی حصہ بن جائے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مونال ریسٹورنٹ کا کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ لیز معاہدہ ختم ہو چکا تھا۔



