لاہور (نیشنل ٹائمز) پنجاب حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث صوبے میں سیاسی سرگومیوں اور جلسوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ میڈیا کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں سیاسی سرگومیوں ، مظاہروں اور جلسوں پر پابندی عائد کردی ہے، پابندی کا اطلاق 22 سے 24 اگست تک صوبے بھر میں ہوگا، سیکرٹری داخلہ نے صوبے بھر میں پابندی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
پابندی کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عوامی اجتماعات دہشتگردوں کیلئے آسان ہدف ہوسکتے ہیں، امن ومان کے قیام ، انسانی جانوں ، املاک کے تحفظ کیلئے دفعہ 144 کا نفاذکیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے کل ہونے والے اسلام آباد جلسے کا این او سی بھی منسوخ کردیا ہے، چیف کمشنر اسلام آباد کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں این او سی منسوخی کا فیصلہ کیا گیا، این او سی منسوخی کا فیصلہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ پر کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس آج چیف کمشنر کی زیر صدارت ہواجس میں آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی اسلام آباد بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے جاری کئے گئے این او سی کا جائزہ لیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد نے مختلف ایونٹس ہونے کی وجہ سے سیکورٹی خدشات کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم اسلام آباد میں ہے اس حوالے سے شدید سکیورٹی تحفظات ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا یہ بھی کہنا ہے کہ جلسے کے ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا ہے چند دن قبل بھی مظاہرین سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے ان حالات میں جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پی ٹی آئی کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوئے جلسے کی اجازت منسوخ کر نے کا فیصلہ کیا گیا۔



