باغ(نیشنل ٹائمز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ باغ اور پونچھ ڈویژن کے تیسرے مرحلے میں بھی پارٹی کامیاب ہوگی، آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔
باغ میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کشمیری عوام صرف پاکستان سے محبت نہیں کرتے بلکہ پورا پاکستان انہیں اپنا سمجھتا ہے،’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘ کے نعرے کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ پاکستان صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ کشمیری بھی پاکستان کے مالک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو الٹی گنتی گننا چاہتے ہیں، ان کی گنتی سیدھی ہوجائے گی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےایک فیصد لوگ حالات خراب کرناچاہتے ہیں، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں 99فیصد لوگ محب وطن ہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےساتھ بیٹھ کرمسائل حل کریں گے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، فیصل آباد، لاہور اور ملتان سمیت پاکستان کے ہر حصے میں کشمیریوں کو دیگر پاکستانیوں کے برابر حقوق، عزت اور مقام حاصل ہے، کشمیری مختلف شعبوں میں کاروبار اور ملازمتیں کررہے ہیں جبکہ پاک فوج میں بھی کشمیریوں کی شمولیت آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان اور کشمیر کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ معرکہ حق میں بھی کشمیری عوام اور پاک فوج پاکستان کے دفاع میں ایک ساتھ کھڑے رہے۔
مشیر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تحریک آزادی جموں و کشمیر ہمارے لیے تحریک تکمیل پاکستان ہے، پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیر پاکستان ہے، پاکستان اور کشمیر کے درمیان مضبوط رشتے کو دنیا کی کوئی طاقت کمزور نہیں کرسکتی، باغ اور پونچھ کے عوام کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی حمایت پاکستان اور کشمیر کے درمیان اسی مضبوط وابستگی کا ایک اور اظہار ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دو مراحل کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی اسمبلی میں 24 منتخب ارکان کی پوزیشن ہے، جبکہ مخصوص نشستیں ملنے کے بعد پارٹی کی مجموعی تعداد 30 تک پہنچ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کو مزید 6 ارکان درکار ہیں، 10 اگست کو باغ اور پونچھ ڈویژن سے مزید 4 مسلم لیگ (ن) کے ارکان منتخب ہوئے تو پارٹی دو تہائی اکثریت کے مزید قریب پہنچ جائے گی، جبکہ پونچھ ڈویژن کی باقی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی امید ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حویلی کے بعد باغ میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے ثابت کردیا ہے کہ کشمیری عوام مسلم لیگ (ن) اور قائد نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں، نواز شریف جلسے میں موجود نہیں، تاہم ان کے کارکنوں اور سپاہیوں نے ان کی غیر موجودگی میں بھی عوامی حمایت ثابت کردی ہے۔
امیر مقام کا پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم سمیت اہم حکومتی عہدے پیپلز پارٹی کے پاس رہے ہیں، اس لیے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے، کشمیری عوام نے پیپلز پارٹی کے انتخابی بیانیے کو مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی اور کشمیری عوام کے ساتھ محبت نے بھی ووٹرز کے فیصلے پر اثر ڈالا، آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بن چکی ہے اور باغ کے منتخب نمائندے بھی حکومت کا حصہ بنیں گے۔



