آن لائن گیمز سے ذہنی صحت پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)انٹرنیٹ لوگوں کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، اس کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کی لت لگ گئی ہے اور وہ اس کے بغیر اپنی زندگی نامکمل سمجھتے ہیں۔تحقیق کے مطابق ہر دوسرا بچہ اسکرین کے سامنے آن لائن گیمز کھیلنے میں وقت گزارتا ہے اور بعض اوقات اتنا زیادہ وقت اسے دیتا ہے کہ اس سے ان کی روزمرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے، آن لائن گیمز نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذاتی، خاندانی اور سماجی زندگیوں کو شدید متاثر کرتے ہیں۔گزشتہ 2 برسں میں کورونا وائرس کی وجہ سے بچے اور نوجوان چار دیواری تک محدود تھے اور اس عرصے میں بچوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے آن لائن گیمنگ کی طرف رُخ کیا اور اب آن لائن گیم کھیلنا اُن کی عادت بن گئی ہے۔آن لائن گیم کھیلنے والے نوجوانوں کی ذہنی حالت کیا ہوتی ہے؟ ہمیشہ آن لائن رہنا موڈ بدل جاناچڑچڑے پن میں اضافہ تفریح ​​کی دیگر اقسام جیسے کھیل کھیلنا، ٹیلی ویژن دیکھنا، کتابیں پڑھنا وغیرہ میں دلچسپی کا خاتمہ بھوک میں کمی سماجی معاملات سے دستبرداری دماغی صحت کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حالت عام طور پر ان بچوں اور نوجوانوں میں ظاہر ہوتی ہے جو آن لائن گیمنگ پر روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ آن لائن گیمنگ میں اضافہ دماغی صحت کے دیگر مسائل جیسے بے چینی، ADHD، ڈپریشن اور اپنے سے بڑوں کے ساتھ نامناسب رویے کا باعث بن سکتا ہے۔جو بچے اور نوجوان آن لائن گیمز کھیلتے ہیں وہ اپنے اعتماد اور خود اعتمادی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے دن میں خواب دیکھتے اور انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔وہ آن لائن گیمنگ کو دوستوں اور ساتھیوں کے درمیان سماجی قبولیت حاصل کرنے کے ایک ٹول کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ والدین کی طرف سے اٹھائے گئے چند اقدامات بچوں میں موجود آن لائن گیم کھیلنے کی لت پر قابو پانے میں مدد کر سکتے ہیں۔انٹرنیٹ کے اوقات کو محدود کریں: آج کی دنیا میں اپنے بچے کو ہر وقت انٹرنیٹ سے دور رکھنا بہت مشکل ہے اور اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اوقات کی پابندی کریں تاکہ بچہ اپنے دوسرے کام بھی مکمل کر سکے۔والدین بچوں کو وقت دیں: والدین چاہے کتنے ہی مصروف ہوں انہیں یہ دیکھنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کے روزمرہ کے معمولات کو جانیں تاکہ وہ پیار اور شفقت محسوس کریں۔بچوں سے بات کریں: بچوں کے ساتھ آن لائن گیمنگ ڈس آرڈر کے اثرات پر تبادلۂ خیال کریں اور ان کے نقطۂ نظر کو بھی سنیں۔بچوں کو جسمانی کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں شامل کریں:بچوں کو دیگر جسمانی کھیلوں اور مختلف سرگرمیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیں جہاں وہ دوستوں اور خاندان کے ساتھ لطف اندوز ہو سکیں۔



  تازہ ترین   
شہباز شریف کی صدر زرداری سے ملاقات، پارٹی سطح پر مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب، پانی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: دفتر خارجہ
بانی پی ٹی آئی کی بینائی صرف 15 فیصد باقی ہے: بیرسٹر سلمان صفدر
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر