کراچی (نیشنل ٹائمز): پاکستان اور ہندوستان سمیت پورا خطہ اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ ہیٹ ویو کے اس سلسلے میں لوگوں کے متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک کی شدید کیفیت فوری طور پر مرکزی اعصابی نظام (سینٹرل نروس سسٹم) پر حملہ کرتی ہے جو مہلک بھی ہوسکتی ہے۔ہیٹ اسٹروک کی اقسام: ہیٹ اسٹروک کی صورت میں جسم کا درجہ حرارت اچانک 104 ، 105 اور دیگر صورتوں میں 106 تک بھی جاپہنچتا ہے۔ بدن کے یکلخت درجہ حرارت میں 10 سے 15 منٹ کے اندر اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کیفیت کو طب کی زبان میں ہائپرتھرمیا کہتے ہیں۔اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر، جناب ڈاکٹر لیاقت علی نےایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ہیٹ اسٹروک کو دو اقسام میں بیان کیا جاسکتاہے:اول: ایگزرشنل ہیٹ اسٹروک اوردوم: نان ایگزرشنل ہیڈ اسٹروک ایگزرشنل یعنی مشقت اور سرگرمی سے لاحق ہونے والا ہیٹ اسٹروک۔ یہ کیفیت عموماً گرمی میں سخت ورزش کرنے والے کھلاڑیوں یا مزدوروں کو لاحق ہوسکتا ہے۔ کھلاڑیوں اور بالخصوص ایتھلیٹ میں فوری اموات کی تین بڑی وجوہ میں اس نوعیت کا ہیٹ اسٹروک کا عمل دخل ہوتا ہے۔دوسری جانب چلچلاتی دھوپ میں کام کرنے والے سخت کوش مزدور بھی اگر ہیٹ اسٹروک کے شکار ہوں تو وہ ایگزرشنل ہیٹ اسٹروک ہی کی اک کیفیت ہوگی۔
ہیٹ اسٹروک: حفاظتی تدابیر، احتیاط اور علاج



