وفاق اور پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں اپوزیشن نے ممکنہ پاور شیئرنگ فارمولہ تیار کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق وفاق اور پنجاب میں اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں اپوزیشن نے ممکنہ پاور شیئرنگ فارمولہ تیار کیا ہے، جس کے تحت پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب چوہدری پرویز الہیٰ کو دیئے جانے کا امکان ہے، تاہم ان کے وزیر اعلٰی بننے کے بعد تشکیل پانے والی صوبائی کابینہ مختصر رکھے جانے کی تجویز ہے۔ اس وقت بزدار کابینہ میں 38 وزیر،4 مشیر اور4 معاون خصوصی شامل ہیں۔ اگر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پھر اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے مسلم لیگ (ن) کے رکن کا انتخاب کیا جائے گا، جب کہ ڈپٹی اسپیکر کیلئے پیپلز پارٹی کے حسن مرتضی کا نام زیر گردش ہے، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی جگہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر الزمان کائرہ کوگورنر بنائے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ کابینہ میں زیادہ وزارتیں مسلم لیگ(ن) کے پاس ہوں گی، پیپلز پارٹی اور ق لیگ کو بھی شیئر ملے گا۔لاہور: حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ناراض دھڑے جہانگیر خان ترین گروپ اور مسلم لیگ (ن) کے مابین وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ لاہور میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے وفد نے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ترین گروپ سے ملاقات کی۔ خیال رہے کہ جہانگیر ترین اس وقت علاج کی غرض سے لندن میں ہیں۔اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں کہا ہے کہ عمران خان کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ بلیک میل ہو کر کبھی فیصلہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری جماعت عمران خان کے فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہے، اپوزیشن کے لوگ کپتان کے جلسوں سے خوفزدہ ہیں اور اگر اس صورتحال میں عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو خان آئندہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت لے گا۔اسلام آباد: قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس 21 مارچ کو طلب کیا جائے گا جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمانی امور کی مشاورت سے اجلاس بلانے پر حتمی غور شروع کردیا جس کے بعد قومی اسمبلی اجلاس 21 مارچ کو طلب کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں فیصلہ کن مرحلہ 25 مارچ کے بعد آئے گا، اسپیکر ایجنڈا کے مطابق ہی کارروائی آگے بڑھائیں گے، قومی اسمبلی ایجنڈا پر تحریک عدم اعتماد کے آجانے کے 7 دن کے اندر اندر آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔قومی اسمبلی اجلاس کی باضابطہ کارروائی 23 مارچ کے بعد ہی چلے گی، قومی اسمبلی اجلاس او آئی سی اجلاس کے بعد باقاعدہ شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 27 مارچ کے بعد ہی ہوگی۔
وفاق اور پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں اپوزیشن نے ممکنہ پاور شیئرنگ فارمولہ تیار



