اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)جب سے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر جس میں انہوں نے نیوٹرل کو جانور سے تشبیہ دی ہےدنیا کے تمام نیوٹرل رہنے والے افراد پر تر س سا آرہا ہے کیونکہ نیوٹرل کا لفظ تو وزیر اعظم کے بطور کھلاڑی بلکہ سیاسی زندگی میں بھی بہت اہمیت کے حامل رہا ہے۔ کون نہیں جانتا اور نہیں بھی جانتا تو بقول وزیر اعظم کہ گوگل کرلیں پتہ چل جائے گا کہ کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر کی اہمیت کو سب سے پہلے کپتان عمران خان نے ہی تسلیم کیا اور دنیائے کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر متعارف کرانے کا سہرا بھی عمران خان کے سر ہے جنھوں نے بھارت کے ساتھ ہوم سیریز میں ایمپائرنگ کے تنازعات سے تنگ آکر سب سے پہلے 1989-90کی لاہور میں کھیلی جانے والی پاک بھار ت سیریز کے لیے برطانوی ایمپائرز جان ہمپشائراور جان ہولڈر کو بطور نیوٹرل ایمپائر ٹیسٹ میچ سپروائز کرنے کی دعوت دی۔ جس کے بعد سے آئی سی سی نے دنیا بھر میں کھیلے جانیو الے ٹیسٹ اور ون ڈے میچز میں نیوٹرل ایمپائر ز متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کیا، پھر ابھی چند روز ہی تو گزرے ہیں جب وزیر اعظم نے پاکستان کو عالمی تنازعات میں نیوٹرل رہنےکی اپنی دبنگ پالیسی کا اعلان بھی بڑے دبنگ انداز میں کیا اور قوم کو بتایا کہ پاکستان عالمی تنازعات میں نیوٹرل رہے گا، ایک ایسے وقت میں جب دنیا بلاکوں میں تقسیم ہے خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک کا اپنی بقاکےلیے کسی نہ کسی بلاک میں شامل ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، ایسے وقت میں جب پاکستان کی مجموعی برآمدات کا پچاس فیصد سے زائد یعنی پندرہ أرب ڈالر کی برآمدات صرف امریکہ اور یورپ کے ممالک کو کی جاتی ہیں۔ وزیر اعظم نے پاکستان کو نیوٹرل رکھ کر امریکہ اور یورپ کی دشمنی مول لے کر بہت بڑا جوا کھیلا ہے جس کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں یقیناً اس موقع پر پاکستان کو نیوٹرل ر کھنا بلاشبہ وزیر اعظم کے لیےنیوٹرل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، پھر تھوڑا سا اور پیچھے جائیں تو دھرنے کے دنوں میں جب وزیر اعظم ملک سے ن لیگ حکومت کے خاتمے کی تحریک میں سرگرداں تھے تو ہر روز ہی ان سے ایمپائر کی انگلی اٹھنے کی خواہش تقاریر میںسنا کرتے تھے۔ یقیناًجس ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا کپتان کو انتظار رہتا تھا وہ بھی یقیناً نیوٹرل ایمپائر ہی ہوگا، تو پھر اچانک کپتان کو کیوں نیوٹرل رہنے والوں کو جانور سے تشبیہ دینا پڑی ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والا ہر فرد یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے اسی روز سے اپوزیشن جماعتوں نے اسے تسلیم نہیں کیا، تحریک انصاف کی حکومت کو الیکٹیڈ نہیں سلیکٹڈ کہا گیا، وزیر اعظم کو بھی سلیکٹڈ وزیر اعظم قرار دیا گیا، ان کی اپنی پارٹی کے پاس اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہ تھی لہٰذا اتحادی جماعتوں کا سہارا لے کر حکومت قائم ہوئی تھی جو ایک کمزور حکومت تھی لیکن ان ساڑھے تین سال میں کبھی وزیر اعظم کو اپنی حکومت بچانے کے لیے اتنی بھاگ دوڑ کرتے نہیں دیکھا گیا جتنا گزشتہ چند دنوں میں وزیر اعظم کو اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کے بعد سے کرنا پڑ رہی ہے۔ ایک طرف تو وزیر اعظم کو ان اتحادیوں کی منتیں ترلے کرتے دیکھا جارہا ہے جن کو ساڑھے تین سالہ دور میں کبھی اہمیت نہ دی گئی بلکہ اب تو ان کی اپنی جماعت کے لوگوں نے بھی وزیر اعظم کو آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ساڑھے تین سال بعد اچانک حکومت کی کشتی میں سوراخ ہوچکا ہے اور تیز ی سے پانی کشتی میں داخل ہونا شروع ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کو ساڑھے تین سال حکومت کرنے کے بعد اب سیاست بھی کرنا پڑرہی ہے ورنہ لگتا ایسا ہی تھا کہ وزیر اعظم حکومت چلا رہے ہیں بچا کوئی اور رہا ہے لیکن اب دونوں چیزیں وزیر اعظم کو خود کرنا پڑرہی ہیں جس سے ان کے لہجے میں چڑچڑاہٹ بھی بڑھ چکی ہے انہوں نے اپوزیشن کےلیے بھی غیر مناسب زبان استعمال کرنا شروع کردی ہے ساتھ ہی بلکہ نیوٹرل ہونے والوں کو بھی جانوروں سے تشبیہ دینا شروع کر دی ہے، لگتا ایسا ہے کہ نیوٹرل ایک ایسا کردار ہے جسے وقت اور حالات کے لحاظ سے اپنی مرضی کے مطابق کبھی اچھا تو کبھی جانور سمجھا جاسکتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اگلے چند دنوں میں ملک کی سیاست میں نیوٹرل کا کیا کردار ہوگا؟ شاید نیوٹرل ہی ملکی سیاست کا مستقبل طے کرے گا۔
کپتان کی زندگی میں ’’نیوٹرل‘‘ کی اہمیت



