غزہ (نیشنل ٹائمز)حماس اور اسرائیل کے درمیان گیارہ روز جنگ کے بعد فائر بندی ہو گئی۔ مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے سیز فائر کا اعلان ہوتے ہی، غزہ اور مغربی کنارے میں ہزاروں فلسطینی ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے اور فتح کا جشن منانا شروع کر دیا۔ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فلسطینیوں نے اسرائیل سے جنگ کے بعد فتح کا جشن منایا۔ ورنہ 1948 سے لے کر 1967 تک کی تمام جنگوں میں عرب ممالک کی مشترکہ فوج نے ہمیشہ اسرائیل کے مقابلے میں ذلت آمیز شکست کا منہ ہی دیکھا تھا۔اسرائیل کی جانب سے تین روز پہلے ہی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی گئی تھی۔ لیکن حماس کا اصرار تھا کہ اسرائیل اعلانیہ جنگ بندی کرے۔ تین روز بعد بلآخر ’اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی متفقہ طور پر منظور کر لیا۔‘ ’بی بی سی نے حماس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ‘شیخ جراح اور مسجد الاقصیٰ سے متعلق شرائط مان لینے کے بعد ہی سیز فائر کو تسلیم کیا گیا ہے۔ 10 مئی کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 60 بچوں اور خواتین سمیت 227 فلسطینی شہید اور 1800سے زخمی ہوئے۔ اس دوران حماس نے 4 ہزار سے زیادہ راکٹ اسرائیل پر فائر کیے۔ اسرائیل نے سرکاری طور پر دو سولین سمیت 12 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ اسرائیل کے غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق راکٹ حملوں میں 104 اسرائیلی ہلاک اور 11 سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان اس سے قبل 2014 میں ہونے والی جنگ کے دوران 16 سو زیادہ فلسطینی شہید ہوئے تھے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی چار جنگوں میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ 11 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ پر کوئی زمینی کاروائی نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق زمینی کروائی نہ ہونے کی وجہ حماس کے انٹی ٹینک گائڈڈ میزائلوں کا خوف تھا۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان گیارہ روز جنگ کے بعد فائر بندی ہو گئی



