امریکی ٹماٹر کو ”محبت کا سبب“ کہتے ہیں۔ہمارے لئے ٹماٹر ایک سبزی ہے

امریکی ٹماٹر کو ”محبت کا سبب“ کہتے ہیں۔ہمارے لئے ٹماٹر ایک سبزی ہے لیکن ماہرین نباتات اس کو ایک پھل قرار دیتے ہیں۔ٹماٹر پودوں کی دنیا میں ایک منفرد خصوصیت کا حامل ہے۔دو سو سال سے کچھ زیادہ عرصہ گزرا کہ امریکی ٹماٹر نہیں کھاتے تھے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ٹماٹر زہریلا ہوتا ہے۔ٹماٹر کے زہریلا ہونے کے بارے میں اس تصور نے اس وجہ سے جنم لیا کیونکہ ٹماٹر کے پودے کا تعلق نائٹ شیڈ فیملی سے ہے اور اس خاندان کے بعض پودے واقعی زہریلے ہوتے ہیں۔
اس کے پتوں اور ڈنڈیوں کی تیز اور ناگوار بو نے اس خیال کو اور بھی زیادہ تقویت بہم پہنچائی کہ یہ سبزی کھانے کے لئے موزوں نہیں ہے۔
انگریزی لفظ ”ٹوماٹو“ کی اصل”ٹوماٹی“ ہے جو میکسیکو کی زبان میں ٹماٹر کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
میکسیکو کے لوگ زمانہ قبل تاریخ سے ٹماٹر کو ایک سبزی کے طور پر کاشت کرتے تھے اور اسے کھاتے تھے۔

دیگر یورپی کھوجیوں نے اس کے جن دوسرے ناموں کا پتہ لگایا وہ ”ٹوماٹی“”ٹوماٹل“اور”ٹوماٹاسو“ تھے۔
خالصتاً میکسیکو کی سرزمین سے تعلق رکھنے والا ٹماٹر اپنی جنگلی شکل میں انڈیز کے پرو‘ایکوڈور‘بولیویا کے علاقے میں اگایا جاتا تھا۔ کاشت شدہ ٹماٹروں کو انڈیز کے نشیبوں سے وسطی امریکہ لے جایا جاتا تھا یہ آج سے کوئی دو ہزار سال پہلے کی بات ہے۔
ٹماٹر کا پہلا معلوم دستاویزی ریکارڈ 1554 سے تعلق رکھتا ہے جب یورپی ادیبوں نے اس کا جنوبی یورپ ‘اٹلی اور فرانس جیسی دور دراز جگہوں پر دیکھے جانے کا تذکرہ کیا۔اٹلی کے لوگوں نے بڑے پیمانے پر ٹماٹر کی کاشت شروع کر دی اور فی الحقیقت وہ پہلے یورپی تھے جنہوں نے ٹماٹر کھائے۔امریکی اب تک اس سے دور بھاگتے تھے اور اس کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔
بالآخر ایک فرانسیسی مہاجر نے 1789ء میں ٹماٹر کو امریکہ میں روشناس کرایا۔تھامس جیفرسن نامی امریکی مدبر ٹماٹر کا بڑا شیدائی تھا اور وہ ورجینیا میں اپنے فارم پر ٹماٹروں کی وافر فصل اگاتا تھا۔
ٹماٹر کا پودا سلانیشیا فیملی کا ممبر ہے جس سے شملہ مرچ‘آلو‘بینگن تعلق رکھتے ہیں اور یہ بحیرہ روم کی آب وہوا میں اور اکثر عام مٹی میں بہتر پیدا ہوتا ہے۔
عام طور پر یہ پھل(اسے سبزی صرف اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ کھانے پکانے میں زیادہ استعمال ہوتا ہے)گرمیوں کے آخر سے ابتدائی خزاں تک بویا جاتا ہے۔مشرق وسطیٰ کے ٹماٹر عام طور پر بڑے اور لمبے یا موٹے اور گول ہوتے ہیں۔ان کی رنگت سبز مائل سرخ سے لے کر شوخ قرمزی ہوتی ہے اور چونکہ یہ درست حالات میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی افزائش کے لئے آب و ہوا نہایت موزوں ہوتی ہے اس لئے یہ ذائقہ دار‘رس بھرے اور میٹھے ہوتے ہیں۔



  تازہ ترین   
پاکستان کا امن مشن ناکام نہیں ہوا، بھارت ہمارے ساتھ اپنے تعلق کا فیصلہ کر لے: عراقچی
صدر شی ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر متفق ہیں: ٹرمپ
ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین
سینیٹ نے مفت اور لازمی تعلیم کے ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد، گیس، بجلی کے نرخ میں تبدیلی شامل
سعودیہ کی مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز
چین آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کا مخالف، ہمارا مؤقف بھی یہی ہے: مارکو روبیو
ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، دفاع کیلئے لڑنے کو تیار ہیں: عباس عراقچی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر